hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13943

.

كنز العمال

13943
Kanz al-Ummal
13943- عن ابن جريج قال: أخبرني يحيى بن سعيد أنه سمع سعيد بن المسيب يقول: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بامرأة في بيت عظيم من بيوت قريش، قد أتت ناسا، فقالت: إن آل فلان يستعيرونكم كذا وكذا فأعاروها، فأتوا أولئك، فأنكروا أن يكونوا استعاروهم، وأنكرت هي أن تكون استعارتهم، فقطعها النبي صلى الله عليه وسلم، وقال ابن جريج عن ابن المنكدر قال: آوتها امرأة أسيد بن حضير فجاء أسيد فإذا هي قد آوتها، فقال: لا أضع ثوبي حتى آتي النبي صلى الله عليه وسلم فجاءه فذكر ذلك له، فقال: رحمتها رحمها الله. "عب".
13943 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ مجھے یحییٰ بن سعید نے بتایا کہ حضرت سعید بن المسیب (رح) فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت لائی گئی۔ یہ عورت قریش کے بڑے گھروں میں سے ایک گھر کا حوالہ دے کر کئی گھروں میں گئی اور بولی فلاں فلاں گھر والے تم سے یہ یہ چیزیں عاریت پر مانگتے ہیں۔ لوگوں نے اس کو مطلوبہ مال دیدیا۔ پھر یہ لوگ فلاں گھر میں گئے لیکن انھوں نے سرے سے انکار کردیا کہ انھوں نے کوئی چیز عاریت پر نہیں مانگی پھر اس عورت سے بات کی تو اس نے اس بات سے انکار کردیا کہ اس نے کوئی چیز نہیں لی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔
ابن جریج ابن المنکدر سے روایت کرتے ہیں کہ پھر اس عورت کو اسید بن حضیر کی بیوی نے اپنے گھر میں پناہ دی۔ اسید جب گھر آئے تو دیکھا کہ ان کی بیوی نے اس عورت کو گھر ٹھہرا رکھا ہے۔ انھوں نے کہا : میں کپڑے نہیں رکھوں گا جب تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق نہ پوچھ آؤں۔ چنانچہ انھوں نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری بیوی نے اس پر ترس کھایا ہے اللہ اس پر ترس کھائے۔ الجامع لعبد الرزاق