13949- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أنس قال: أتي عمر بن الخطاب بسارق، فقال: والله ما سرقت قط، فقال له عمر: كذبت ورب عمر ما أخذ الله عبدا عند أول ذنب فقطعه. "ق" قال الحافظ بن حجر في أطرافه رواه ابن وهب في جامعه وهو موقوف حكمه الرفع لنبيه لصحة سنده وروى معناه عن قرة بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن عن ابن شهاب عن أبي بكر وهو منقطع انتهى.
13949 (مسند عمر (رض)) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک چور لایا گیا۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو ارشاد فرمایا : تو جھوٹ بولتا ہے : عمر کے رب کی قسم ! اللہ نے کبھی کسی بندے کو پہلے گناہ پر نہیں پکڑا اور اس کا ہاتھ کٹوادیا۔ السنن للبیہقی
فائدہ : حافظ ابن حجراطراف میں فرماتے ہیں : اس روایت کو ابن وھب نے اپنی جامع میں روایت کیا ہے۔ یہ روایت درحقیقت موقوف ہے اور اس کا مرفوع الی التبی کا حکم اس کی سند کی صحت کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔ اور اسی کے ہم معنی روایت قرۃ بن عبدالرحمن عن عبدالرحمن عن ابن شہاب عن ابی بکر وھو منقطع ، انتہی۔