hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13952

.

كنز العمال

13952
Kanz al-Ummal
13952- عن عبد الله بن أبي عامر قال: انطلقت في ركب فسرقت عيبة لي ومعنا رجل يتهم، فقال أصحابي: يا فلان أدعيبته فقال: ما أخذتها، فرجعت إلى عمر بن الخطاب، فأخبرته، فقال: كم أنتم فعددتهم، فقال: أظنه صاحبها الذي أتهم، فقلت: لقد أردت يا أمير المؤمنين أن آتى به مصفودا فتقول: أتاني به مصفودا بغير بينة قال: لا أكتب لك فيها ولا سأل عنها. قال: فغضب فما كتب لي فيها ولا سأل عنها. "عب".
13952 عبداللہ بن ابی عامر سے مروی ہے کہ میں ایک قافلہ کے ساتھ جارہا تھا ۔ میرا ایک (کپڑے رکھنے کا بیگ) تھیلا چوری ہوگیا۔ ہمارے ساتھ ایک آدمی تہمت زدہ مشہور تھا۔ میرے دوستوں نے اس کو کہا : اے فلانے اس کا تھیلا لوٹا دو ۔ اس نے کہا : میں نے نہیں لیا۔ عبداللہ کہتے ہیں : چنانچہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس واپس آیا اور آپ (رض) کو ساری خبر سنائی۔ آپ نے پوچھا : تم کتنے افراد ہو۔ میں نے ان کو گنوادیا۔ آپ نے فرمایا : میرا بھی گمان یہی ہے کہ جو مہتم ہے اس نے تھیلا اٹھایا ہوگا۔ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین میرا خیال ہے میں اس کو بیڑی ڈال کر آپ کے حضور حاضر کردوں۔ آپ فرمانے لگے : تو بغیر گواہوں کے باندھ کر کیسے لاسکتا ہے میرے پاس (یہ تو جائز نہیں) نہیں ، میں ایسا لکھ کر نہیں دے سکتا اور نہ اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ آپ (رض) (میری بات پر) غصہ ہوگئے اور نہ اس کے متعلق مجھے کچھ لکھ کردیا اور نہ اس سے پوچھ تاچھ فرمائی۔ مصنف عبدالرزاق