13956- عن عكرمة بن خالد المخزومي أن اسيد بن ظهير الأنصاري حدثه أنه كان عاملا على اليمامة، وأن مروان كتب إليه أيما رجل سرقت منه سرقة فهو أحق بها حيث ما وجدها، فكتب بذلك مروان إلي فكتبت إلى مروان، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بأنه إذا كان الذي ابتاعها من الذي سرقها غير متهم فخير سيدها فإن شاء أخذ ما سرق منه بثمنه أو أتبع سارقه، ثم قضى بذلك بعد أبو بكر وعمر وعثمان فكتب بذلك مروان إلى معاوية، فكتب معاوية إلى مروان: لست أنت وأسيد بقاضيين علي ولكني قضيت عليكما فيما وليت عليكما فانفذ لما أمرتك فبعث مروان بكتاب معاوية إلي، فقلت: لست أقضي ما وليت بما قال معاوية. "طب والحسن بن سفيان" وسنده صحيح.
13956 عکرمہ بن خالد المخزومی سے مروی ہے کہ اسید بن ظہیر الانصاری (رض) نے ان کو بیان کیا کہ وہ یمامہ کے عامل (گورنر) تھے۔ مردان نے ان کو لکھ کر بھیجا کہ جس شخص کی کوئی شے چوری ہوجائے وہ جہاں بھی اس کو پائے اس کو لینے کا حقدار ہے۔ میں نے مروان کو لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر چور سے خریدنے والا شخص غیر مہتم ہے (شریف اور معزز انسان ہے) تو مالک کو اختیار ہے، چاہے قیمت دے کر اس سے اپنا مال لے لے۔ ورنہ اصل چور کو تلاش کرے۔ پھر اسی کے مطابق ابوبکر (رض) ، عمر (رض) ، عثمان (رض) نے فیصلے کیے۔ یہ بات مروان نے پڑھ کر حضرت امیر معاویہ (رض) کو لکھ بھیجی۔ حضرت معاویہ نے مروان کو لکھا : تو اور اسید مجھ پر فیصلہ تھونپنے والے نہیں ہو۔ میں جو چاہوں تم کو حکم دوں گا ۔ لہٰذا میں نے جیسا تم کو حکم دیا ہے اس کو نافذ کرو۔ پھر مروان نے معاویہ کا خط مجھے بھیج دیا۔ میں نے کہا : میں اپنی حکمرانی میں معاویہ کے کہے پر فیصلے کا نفاذ نہیں کرسکتا (سبحان اللہ) ۔ الکبیر للطبرانی، الحسن بن سفیان
اس روایت کی سند صحیح ہے۔