13969- عن عمرة بنت عبد الرحمن أن رجلين استبا في زمن عمر بن الخطاب قال أحدهما للآخر: ما أبي بزان ولا أمي بزانية، فاستشار في ذلك عمر فقال قائل: مدح أباه وأمه، وقال آخرون: كان لأبيه وأمه مدح سوى هذا نرى أن يجلد الحد، فجلده عمر بن الخطاب ثمانين. "مالك عب هق"
13969 عمرۃ بنت عبدالرحمن سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ ایک نے دوسرے کو کہا : میرا باپ زانی ہے اور نہ میری ماں زانیہ۔ حضرت عمر (رض) نے اس کے بارے میں مشاورت فرمائی۔ ایک نے کہا : اس نے تو اپنے باپ اور ماں کی تعریف کی ہے۔ لیکن دوسرے لوگوں نے کہا : اس کو اپنے ماں باپ کی مدح اور الفاظ کے ساتھ کرنا چاہتے تھی۔ لہٰذا ہمارا خیال ہے اس کو حد لگنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو اسی کوڑے لگوائے۔ موطا امام مالک، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی