hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13973

.

كنز العمال

13973
Kanz al-Ummal
13973- عن ابن جريج قال: بلغني عن عمرو بن العاص، وهو أمير مصر أنه قال لرجل من تجيب يقال له قنبرة: يا منافق، فأتى عمر بن الخطاب فكتب عمر إلى عمرو بن العاص: إن أقام البينة عليك جلدتك تسعين فنشد الناس فاعترف عمرو حين شهد عليه زعموا أن عمر قال لعمرو أكذب نفسك على المنبر، ففعل فأمكن عمر وقنبرة من نفسه فعفى عنه لله عز وجل
13973 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عمرو بن العاص کے متعلق خبر پہنچی جو مصر کے گورنر ہیں، انھوں نے قبیلہ تجیب کے ایک شخص جس کو قنبرۃ کہا جاتا تھا منافق کہہ کر پکارا۔ قنبرۃ گورنر کی شکایت لے کر حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا۔ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو اکٹھا کیا ۔ لوگوں نے عمرو بن العاص کے خلاف گواہی دیدی تو انھوں نے بھی اپنے قول کا اعتراف کرلیا۔ حضرت عمر (رض) نے عمرو (رض) کو حکم دیا کہ آپ منبر پر کھڑے ہو کر اپنی بات کو جھٹلائیں۔ حضرت عمرو (رض) نے تعمیل کی پھر قنبرۃ کو اپنے اوپر اختیار دیا (کہ وہ کوڑے مار کر اپنا بدلہ لے لیں) لیکن قنبرۃ نے ان کو اللہ عزوجل کے لیے معاف کردیا۔