13984- عن عطاء وإبراهيم أن رجلا كانت عنده يتيمة فخشيت امرأته أن يتزوجها فافتضتها بأصبعها وقالت: لزوجها زنت وقالت الجارية: كذبت وأخبرته الخبر فرفع شأنها إلى علي، فقال للحسن: قل فيها، قال: أن تجلد الحد لقذفها إياها وأن تغرم الصداق لافتضاضها، فقال علي: كان يقال لو علمت الإبل طحينا لطحنت وما طحنت الإبل حينئذ فقضى بذلك علي. "عب".
13984 عطاءؒ (اور ابراہیم (رح)) سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے پاس کوئی یتیم لڑکی رہا کرتی تھی۔ آدمی کی بیوی کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اس کا آدمی اس لڑکی سے شادی نہ کرلے۔ چنانچہ اس نے اپنی انگلی کے ساتھ لڑکی کا پردہ بکارت پھاڑ دیا اور اپنے شوہر کے سامنے اس پر الزام عائد کیا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ لڑکی بولی : تو جھوٹ بولتی ہے پھر اس نے اصل بات اس کے شوہر کو بتادی۔ آدمی نے یہ معاملہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی بارگاہ میں پیش کیا۔ ان کے پاس ان کے فرزند اکبر حضرت حسن (رض) بھی حاضر خدمت تھے۔ آپ (رض) نے اپنے بیٹے حسن سے فرمایا : تم کیا کہتے ہو اس کے فیصلے کے بارے میں ؟ حضرت حسن (رض) نے فرمایا : عورت پر حد (تہمت) لگائی جائے کیونکہ اس نے ایک (معصوم) لڑکی پر تہمت عائد کی اور اس کے ساتھ اس پر لڑکی کے مہر کا تاوان بھی لازم کیا جائے کیونکہ اس نے اس کا پردہ بکارت زائل کیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا :
لو علمت الا بل طحینا لطحنت وما طحنت الا بل حینئذ۔
اگر اونٹوں کو پیسنا آتا تو وہ پیستے لیکن اونٹوں نے اس وقت کچھ نہیں پیسا۔
(واللہ اعلم بمرادہ) پھر حضرت علی (رض) نے حسن (رض) کے فیصلے کے ساتھ فیصلہ صادر فرمادیا۔
الجامع لعبد الرزاق