13994- عن أبي الشعثاء قال: استعمل عمر بن الخطاب شرحبيل بن السمط على مسلحة3 دون المدائن فقام شرحبيل فخطبهم فقال:أيها الناس إنكم في أرض الشراب فيها فاش، والنساء فيها كثير، فمن أصاب منكم حدا فليأتنا، فلنقم عليه الحد، فإنه طهوره فبلغ ذلك عمر فكتب إليه لا أحل لك أن تأمر الناس أن يهتكوا ستر الله الذي سترهم. "عب وهناد كر"
13994 ابوالشعثاء سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے شرحبیل بن السمط کو مسلمۃ دون المدائن (مدائن) کے سرحدی علاقے پر گورنر بنایا۔ شرحبیل نے ان کو خطبہ دیا اور فرمایا :
اے لوگو ! تم شراب والی سرزمین میں ہو جہاں فحاشی اور عورتیں زیادہ ہیں۔ پس جو تم میں سے کسی حد (سزا) کا مرتکب ہوجائے وہ ہمارے پاس آئے ہم اس پر حد جاری کریں گے۔ کیونکہ یہ اس کے لیے باعث طہور (پاکیزگی) ہے۔
یہ بات حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : میں تیرے لیے یہ بات جائز قرار نہیں دیتا کہ تو لوگوں کو حکم کرے کہ وہ اللہ کے پردہ کو پھاڑیں جو اللہ نے ان پر ڈھانپا ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، ھناد، ابن عساکر