14029- عن علي قال: خرجنا من مكة تبعتنا ابنة حمزة تنادي يا عم يا عم فتناولتها بيدها فرفعتها إلى فاطمة، فقلت: دونك ابنة عمك، فلما قدمنا المدينة اختصمنا فيها أنا وجعفر وزيد بن حارثة فقال جعفر: ابنة عمي وخالتها عندي يعني أسماء بنت عميس، فقال زيد: ابنة أخي، فقلت: أنا أخذتها وهي ابنة عمي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما أنت يا جعفر فأشبهت خلقي وخلقي، وأما أنت يا زيد فمني وأنا منك وأخونا ومولانا، والجارية عند خالتها، فإن الخالة والدة، فقلت يا رسول الله ألا تزوجها؟ قال: إنها ابنة أخي من الرضاعة. "حم د وابن جرير وصححه حب ك"
14029 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ہم جب مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے بنت حمزہ (رض) یا عم ! یاعم ! اے چچا ! اے چچا ! پکارتی ہوئی پیچھے چلی آئی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فاطمہ کے حوالے کردیا اور کہا کہ لو اپنے چچا (حمزہ) کی بیٹی کو سنبھالو۔ جب ہم مدینہ پہنچ گئے تو اس کے بارے میں ہمارا جھگڑا ہوا میرا، جعفر (طیار بن ابی طالب) کا اور زید بن حارثہ کا۔ جعفر بولے : میرے چچا (حمزہ) کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ اسماء بنت عمیس میرے ہاں ہے۔ زید بولے : یہ میرے (اسلامی ) بھائی کی بیٹی ہے۔ میں نے کہا : میں نے اس کو پکڑا ہے اور یہ میرے چچا (حمزہ) کی بیٹی ہے۔ آخر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے جعفر تو شکل اور عادات میں میرے مشابہ ہے اور اے زید ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے اور تو ہمارا بھائی اور ہمارا مولا ہے۔ لیکن لڑکی اپنی خالہ کے پاس بہتر ہے۔ کیونکہ خالہ والدہ ہے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ اس سے شادی کیوں نہیں کرلیتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
مسند احمد، ابوداؤد ، ابن جریر، وصححہ ابن حبان، مستدرک الحاکم
فائدہ : لڑکی کا چچا چچا کہنا معروف عادت کے مطابق تھا۔ ان کے والد اس سے قبل جنگ احد میں شہید ہوچکے تھے ۔ اور وہ حضرت علی، حضرت جعفر اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حمزہ کی بیٹی تھی۔ اگر رشتہ یہاں تک موقوف رہتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے شادی کرنا جائز ہوتا لیکن ثوبیہ نامی ایک باندی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو دودھ پلایا تھا جس کی وجہ سے یہ لڑکی آپ کی بھتیجی ثابت ہوئی۔