14040- "مسند الصديق" عن أم هانيء أن فاطمة قالت: يا أبا بكر من يرثك إذا مت قال: ولدي وأهلي، قالت: فما شأنك ورثت رسول الله صلى الله عليه وسلم دوننا؟ قال: يا ابنة رسول الله، والله ما ورثته ذهبا ولا فضة ولا شاة ولا بعيرا ولا دارا ولا عقارا ولا غلاما ولا مالا، قالت: فسهم الله الذي جعله لنا وصافيتنا1 التي بيدك، فقال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن النبي يطعم أهله ما دام حيا، فإذا مات رفع ذلك عنهم وفي لفظ: سمعته يقول: إنما هي طعمة أطعمنيها الله، فإذا مت كانت بين المسلمين. "ابن سعد"2
14040 (مسند الصدیق (رض)) ام ربانی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : اے ابوبکر ! جب آپ مریں گے تو آپ کا وارث کون بنے گا ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : میری اولاد اور میرے گھر والے۔ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : پھر کیا بات ہے کہ ہمارے بجائے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث بن گئے ہیں ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے بنت رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں آپ کا وارث نہیں ہوا سونے میں، چاندی، بکری میں، اونٹ میں، گھر میں، زمین میں، غلام میں اور نہ کسی طرح کے مال میں حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ کا وہ خالص حصہ جو اللہ نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا وہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : نبی جب تک زندہ ہوتا ہے اس کے اہل و عیال کو (اللہ کے عطا کردہ اس مال میں سے) کھلایا جاسکتا ہے اور جب نبی کا انتقال ہوجاتا ہے تو وہ رزق اس کے اہل و عیال سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ (مال) تو محض کھانا ہے جو اللہ نے مجھے کھلایا ہے جب میں مرجاؤں گا تو یہ مال مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوجائے گا۔ الطقات لا بن سعد