hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14047

.

كنز العمال

14047
Kanz al-Ummal
14047- عن قيس بن أبي حازم قال: دخل أبو بكر على امرأة من أحمس يقال لها: زينب فرآها لا تتكلم فقال: ما لها لا تتكلم؟ فقالوا: حجت مصمتة فقال لها: تكلمي فإن هذا لا يحل، هذا من عمل الجاهلية فتكلمت، قالت: ما بقاؤنا على هذا الأمر الصالح الذي جاء الله به بعد الجاهلية بعد النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: بقاؤكم عليه ما استقامت بكم أئمتكم، قالت: وما الأئمة؟ قال: أما كان لقومك رؤس وأشراف يأمرونهم ويطيعونهم؟ قالت: بلى، قال: فهم أمثال أولئك يكونون على الناس. "ش خ والدارمي ك ق".
14047 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) قبیل احمس کی ایک عورت کے پاس تشریف لے گئے جس کا نام زینب تھا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بولتی نہیں ہے۔ آپ نے پوچھا : یہ بولتی کیوں نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس نے (بغرض عبادت) نہ بولنے کا عزم کیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو فرمایا : بولو، ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کا عمل ہے۔ چنانچہ وہ بولنے لگی۔ اس نے پوچھا : یہ دین جو جاہلیت کے بعد پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اب تک درست نہج پر ہے اس کی بقاء و دوام کا کیا راستہ ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : جب تک تمہارے (ائمہ) سیدھی راہ گامزن رہیں گے تم اس دین پر باقی رہو گے۔ اس نے پوچھا : ائمہ کون ہیں ؟ فرمایا : تمہاری قوم کے کچھ لوگ تم پر حکمرانی اور سرداری کرتے ہوں گے ؟ عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا : بس ائمہ (حکمران) انہی کے مثل ہوتے ہیں جو لوگوں پر امام ہوتے ہیں۔
مصنف ابن ابی شیبہ، البخاری، مسند الدارمی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی