hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14060

.

كنز العمال

14060
Kanz al-Ummal
14060- عن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف أن عبد الرحمن بن عوف كان مع عمر بن الخطاب وأن محمد بن مسلمة كسر سيف الزبير، ثم قام أبو بكر فخطب الناس واعتذر إليهم وقال: والله ما كنت حريصا على الإمارة يوما ولا ليلة قط ولا كنت فيها راغبا ولا سألتها الله في سر ولا علانية، ولكني أشفقت من الفتنة وما لي في الإمارة من راحة ولكني قلدت أمرا عظيما ما لي به طاقة ولا يد إلا بتقوية الله عز وجل ولوددت أن أقوى الناس عليها مكاني اليوم، فقبل المهاجرون منه ما قال وما اعتذر به، وقال علي والزبير، وما غضبنا إلا لأنا أخرنا عن المشاورة، وإنا نرى أبا بكر أحق الناس بها بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، إنه لصاحب الغار وثاني اثنين، وإنا لنعرف شرفه وكبره ولقد أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة بالناس وهو حي. "ك هق"
14060 سعد بن ابراہیم عن عبدالررحمن بن عوف سے مروی ہے کہ حضور کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تھے۔ محمد بن مسلمۃ نے زبیر (رض) کی تلوار توڑ دی تھی۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) اٹھے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا : اور ان سے معذرت کی فرمایا :
اللہ کی قسم ! میں نے کبھی دن میں اور نہ کبھی رات میں امارت (حکومت) کی لالچ کی اور نہ اس کی رغبت رکھی اور نہ ہی پروردگار سے تنہائی میں یا کھلے میں کبھی اس کا سوال کیا۔ لیکن مجھے فتنے کا ڈر ہے۔ مجھے امارت میں کوئی کشادگی اور مسرت نہیں ہے بلکہ مجھے ایک عظیم ذمہ داری گلے میں ڈال دی گئی ہے، جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت ہے اور نہ قوت مگر اللہ عزوجل کی مدد کے ساتھ۔ میری تو خواہش ہے کہ لوگوں میں سب سے مضبوط آدمی جب اس بار کو اپنے کاندھوں پر اٹھائے۔
چنانچہ مہاجرین نے آپ (رض) کی کہی ہوئی سب باتوں کو قبول کیا اور آپ کی معذرت کو قبول کیا صرف حضرت علی اور حضرت زبیر (رض) نے فرمایا : ہمیں غصہ صرف اس بات کا ہے کہ مشاورت میں ہمارا انتظار نہ کیا گیا۔ ہم بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ابوبکر (رض) کو اس منصب کا سب سے بڑا حقدار سمجھتے ہیں۔ وہ حضور کے صاحب غار ہیں اور ثانی اثنین کے لقب یافتہ ہیں۔ ہم آپ کے شرف اور بزرگی کو خوب جانتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو اپنی زندگی ہی میں آپ (رض) کو نماز پڑھانے کا حکم کردیا تھا (اور یہ مقام صرف امام حاکم کا ہے) ۔
مستدرک الحاکم، للبیہقی قال الحاکم صحیح علی شرط الشیخین ، واقرہ الذھبی