14067- عن عطاء بن السائب قال: لما بويع أبو بكر أصبح وعلى ساعده أبراد وهو ذاهب إلى السوق، فقال عمر: أين تريد؟ قال: السوق قال: تصنع ماذا وقد وليت أمر المسلمين؟ قال: فمن أين أطعم عيالي؟ فقال عمر: انطلق يفرض لك أبو عبيدة، فانطلقا إلى أبي عبيدة فقال: أفرض لك قوت رجل من المهاجرين ليس بأفضلهم ولا بأوكسهم وكسوة الشتاء والصيف إذا أخلقت شيئا رددته وأخذت غيره، ففرضا له كل يوم نصف شاة وما كساه في الرأس والبطن. "ابن سعد"
14067 عطاء بن السائب سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی گئی تو صبح کو حضرت ابوبکر (رض) اپنے ہاتھ پر چادریں اٹھا کر بازار کو نکلے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ فرمایا : بازار کا۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یہ آپ کیا (خریدو فروخت ) کررہے ہیں حالانکہ اب آپ کو مسلمانوں کا امیر بنادیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے پوچھا : پھر میرے اہل خانہ کو میں کہاں سے کھلاؤں ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : چلئے، ابوعبیدۃ آپ کے لیے وظیفہ مقرر کردیں گے۔ چنانچہ دونوں ابوعبیدۃ کے پاس گئے۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے فرمایا : میں آپ کے لیے مہاجرین میں سے ایک آدمی کا وظیفہ مقرر کرتا ہوں جو نہ زیادہ افضل ہو اور نہ بالکل گھٹیا۔ اور گرمی سردی کا لباس، جب آپ ایک چیز استعمال کرکے پرانی کردیں تو واپس کرکے دوسری لے لیں۔ چنانچہ دونوں نے حضرت ابوبکر (رض) اور ان کے اہل خانہ کے لیے نصف بکری اور سر اور تن کو ڈھانکنے کا کپڑا مقرر کردیا۔
ابن سعد