1407 - عن أبي بكر قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أخرج فناد في الناس: من شهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وجبت له الجنة فخرجت فلقيني عمر فسألني فاخبرته فقال عمر ارجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقل له دع الناس يعملون فإني أخاف أن يتكلوا عليها فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته ما قال عمر فقال صدق عمر فأمسكت". (ع واللالكائي في الذكر) وفيه سويد بن عبد العزيز متروك قال الحافظ بن كثير الحديث غريب جدا من حديث أبي بكر والمحفوظ عن أبي هريرة.
1407 ۔۔ حضرت ابوبکر سے مروی ہے کہ مجھے آپ نے حکم فرمایا کہ نکل کرجاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جس نے شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، میں نکلا تو مجھے عمر (رض) سے ملے اور مجھ سے سوال کیا تو میں نے خبردیدی لیکن عمر (رض) نے کہا آپ کے پاس واپس جائیں اور آپ سے کہیں کہ لوگوں کو عمل کرنے دیجئے کیونکہ مجھے خوف کہ لوگ بھروسہ کر بیٹھے رہیں گے میں حضور کے پاس واپس آیا اور آپ کو حضرت عمر کی بات کہی ، آپ نے فرمایا عمر نے سچ کہا پس میں رک جاتاہوں۔ المسند لابی یعلی ، الالکائی فی الذکر۔
اس میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز متروک ہے نیز حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کی طرف منسوب احادیث میں سے یہ حدیث بہت غریب ہے لیکن حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ حدیث محفوظ ہے۔