14092- عن يزيد بن عبيد السعدي أبي وجزة قال: مر أبو بكر بالناس في معسكرهم بالجرفينسب القبائل حتى مر ببني فزارة، فقام إليه رجل منهم فقال: مرحبا بكم، فقالوا: يا خليفة رسول الله نحن أحلاس الخيل وقد وفدنا الخيول معنا، قال: بارك الله فيكم، قالوا: فاجعل اللواء الأكبر معنا، فقال أبو بكر: لا أغيره عن موضعه وهو في بني عبس، فقال الفزاري: أتقدم علي من أنا خير منه؟ فقال أبو بكر: اسكت يالكع هو خير منك أقدم إسلاما ولم يرجع منهم رجل وقد رجعت وقومك عن الإسلام، فقال العبسي: وهو ميسرة بن مسروق ألا تسمع ما يقول يا خليفة رسول الله فقال: اسكت فقد كفيت. "ابن سعد".
14092 ابو وجزۃ یزید بن عبید السعدی سے مروی ہے حضرت ابوبکر (رض) جرف (مدینے کے قریب ایک) مقام پر تشریف لے گئے جہاں اسلامی لشکر ٹھہرے ہوئے تھے۔ قبائل ایک دوسرے کے سامنے اپنے حسب نسب بیان کررہے تھے۔ آپ (رض) کے فزارہ قبیلے کے پاس سے گزر ہوا تو ان میں سے ایک اٹھا اور اس نے آپ کو عرض کیا : خوش آمدید ! پھر مزاریوں نے مل کر کہا کہ اے خلیفہ رسول ! ہم گھوڑوں کے عادی لوگ ہیں اور اپنے ساتھ گھوڑے لائے ہیں۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ تم کو ان میں برکت نصیب کرے۔ فزاری لوگ بولے : آپ اس لیے بڑا علم ہمارے قبیلے کے حوالے فرمادیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں اس کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کرسکتا بنی عبس میں ہے۔ فزاری نے کہا : آپ ان کو ہم پر مقدم کررہے ہیں جن سے ہم کہیں بہتر ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اوکمینے ! چپ رہ۔ وہ تم سے بہتر ہیں، وہ پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان میں سے کوئی آدمی اسلام لانے کے بعد اسلام سے واپس نہیں لوٹا۔ حالانکہ تو بھی اور تیری قوم کے لوگ بھی اسلام سے ۔ ایک بار پھر چکے ہیں۔ عبسی جو میسرۃ بن مسروق تھا نے کہا اس کو کہا : کیا تو خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں سن رہا ؟ فزاری بولا : تو چپ رہ ! تجھے تو سب کچھ مل گیا ہے۔
ابن سعد