14105- عن القاسم أن أبا بكر الصديق كان إذا نزل به أمر يريد فيه مشاورة أهل الرأي وأهل الفقه دعا رجالا من المهاجرين والأنصار ودعا عمر وعثمان وعليا وعبد الرحمن بن عوف ومعاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد بن ثابت، وكل هؤلاء كان يفتي في خلافة أبي بكر وإنما تصير فتوى الناس إلى هؤلاء فمضى أبو بكر على ذلك، ثم ولي عمر فكان يدعو هؤلاء النفر وكانت الفتوى تصير وهو خليفة إلى عثمان وأبي وزيد. "ابن سعد".
14105 قاسم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کو جب کوئی مسئلہ درپیش آتا جس میں ان کو اہل رائے اور اہل فقہ کے مشوروں کی ضرورت محسوس ہوتی تو آپ (رض) مہاجرین و انصار کے لوگوں کو بلاتے جن میں خاص طور پر عمر، عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت (رض) ضرور شامل ہوتے۔ یہ سب حضرات خلافت صدیق میں فتوی جاری فرماتے تھے۔ لوگوں کے فتاویٰ انہی کے پاس آتے تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) کا یہی معمول اپنی خلافت میں رہا۔ پھر حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مذکورہ افراد کو بلاتے تھے اور ان کے دور میں فتویٰ کا منصب عثمان، ابی اور زید (رض) کے سپرد تھا۔ ابن سعد