hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1411

.

كنز العمال

1411
Kanz al-Ummal
1411 - عن محمد بن جبير أن عمر مر على عثمان فسلم عليه فلم يرد عليه فدخل على أبي بكر فاشتكى ذلك إليه فقال أبو بكر: "ما منعك أن ترد على أخيك؟ قال والله ما سمعت وأنا أحدث نفسي قال أبو بكر فبماذا تحدث نفسك قال خلاف الشيطان فجعل يلقي في نفسي أشياء ما أحب أني تكلمت بها وإن لي ما على الأرض قلت في نفسي حين ألقى الشيطان ذلك في نفسي يا ليتني سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان في أنفسنا فقال أبو بكر والله لقد اشتكيت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسألته ما الذي ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان في أنفسنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ينجيكم من ذلك أن تقولوا مثل الذي أمرت به عمي عند الموت فلم يفعل". (ع) قال: البوصيري في زوائد العشرة سنده حسن.
١٤١١۔۔ محمد بن جبیر سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کا حضرت عثمان پر گزرا ہوا اور ان کو سلام کیا مگر انھوں نے جواب نہ دیا، حضرت عمر (رض) حضرت ابوبکر کے پاس جاکر اس کی شکایت کی حضرت ابوبکر نے حضرت عثمان سے پوچھا کیا بات ہے تم نے اپنے بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ حضرت عثمان نے عرض کیا، اللہ کی قسم میں نے ان کا سلام سناہی نہیں ، میں تو اپنے آپ میں مگن تھا، حضرت ابوبکر نے پوچھاتم کن خیالات میں محو تھے ؟ عرض کیا شیطان کے خلاف کچھ خیالات تھے وہ میرے نفس میں ایسے ایسے خیالات القا کررہا تھا کہ جن کو میں روئے زمین کے خزانوں کے عوض بھی اپنی زبان پر بھی لا ناپسند نہیں کرتا، جب شیطان میرے دل میں ایسے وساوس پیدا کرتا ہے تو میرے دل میں تمنا اٹھتی ہے کہ کاش میں اس سے نجات کے متعلق حضور سے سوال کرچکا ہوتا۔۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ سے اس کی شکایت کی تھی اور اس سے نجات کے متعلق بھی سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ اس سے نجات کے لیے تم وہی کلمہ کہوجو میں نے اپنے چچا پر ان کی موت کے وقت پیش کیا تھا مگر انھوں نے انکار فرمادیا تھا۔ المسند لابی یعلی۔ علامہ بویصری زوائد العشرہ میں اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے۔