14161- عن ابن إسحاق قال: حدثني طلحة بن عبيد الله بن أبي بكر يأمر أمراءهم حين كان يبعثهم في الردة إذا غشيتم دارا فإن سمعتم بها أذانا فكفوا حتى تسألوهم ماذا تنقموافإن لم تسمعون أذانا فشنوها غارة واقتلوا واحرقوا وانهكوافي القتل والجراح لا يرى بكم وهن لموت نبيكم. "ق".
14161 ابن اسحاق (رح) سے مروی ہے ، مجھے طلحہ بن عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) جب لشکروں کو مرتدین سے لڑائی کے لیے روانہ فرماتے تو ان کو ارشاد فرماتے : جب تم کسی علاقے کو گھیرا ڈالو اگر وہاں تم کو اذان کی آواز سنائی دے تو جنگ سے رک جاؤ۔ حتیٰ کہ تم پھر ان سے سوال کرو کہ تم کو (اسلام میں ) کیا عیب نظر آیا۔ اگر تم کو اذان کی آواز سنائی نہ دے تو وہاں غارت گری کردو، قتل کرو، جلاؤ اور خوب خونریزی کرو اور تمہارے نبی کی موت کی وجہ سے تم میں کسی طرح کی کمزوری نظر نہ آنا چاہیے۔ السنن للبیہقی