14189- عن عبد الله بن عتبة بن مسعود قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: إن ناسا كانوا يأخذون بالوحي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن الوحي قد انقطع وإنما نأخذكم الآن بما ظهر من أعمالكم فمن أظهر لنا خيرا آمناه وقربناه، وليس إلينا من سريرته شيء الله يحاسبه في سريرته ومن أظهر لنا شرا لم نأمنه ولم نصدقه، وإن قال: إن سريرته حسنة. "عب".
14189 عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں وحی کے ساتھ بھی لوگوں کا مواخذہ کیا جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ لہٰذا ہم تمہارے ظاہری اعمال پر تمہاری پکڑ کریں گے۔ جس نے ہم پر خیر کو ظاہر کیا ہم اس پر ایمان لائیں گے اور اس کو قریب کریں گے اور ہمیں اس کے اندرونی معاملات سے سروکار نہ ہوگا۔ پھر اللہ ہی اس کے اندرونی معاملات کا حساب فرمائے گا۔ اور اگر کسی نے ہمارے آگے شر کو ظاہر کیا تو ہم اس پر مطمئن نہ ہوں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے اگر وہ کہے گا کہ اس کا باطن اچھا ہے۔ مصنف لعبد الرزاق