hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14227

.

كنز العمال

14227
Kanz al-Ummal
14227- عن الليث بن سعد قال: سأل المقوقس عمرو بن العاص أن يبيعه سفح المقطم بسبعين ألف دينار، فعجب عمرو من ذلك وقال: أكتب في ذلك إلى أمير المؤمنين، فكتب بذلك إلى عمر فكتب إليه عمر سله لم أعطاك به ما أعطاك وهي لا تزرع ولا يستنبط بها ماء ولا ينتفع بها؟ فسأله، فقال: إنا لنجد صفتها في الكتب أن فيها غراس الجنة، فكتب بذلك إلى عمر، فكتب إليه عمر إنا لا نعلم غراس الجنة إلا للمؤمنين فاقبر فيها من مات قبلك من المسلمين ولا تبعه بشيء. "ابن عبد الحكم".
14227 لیث بن سعد سے مروی ہے کہ مقوقس (شاہ مصر) نے گورنر اسلام عمرو بن العاص سے سوال کیا کہ وہ سفح المقطم زمین ان کو ستر ہزار دینار کے عوض فروخت کردیں۔ عمرو بن العاص (رض) کو اس پر تعجب ہوا کہ ایسی بنجرزمین اس قدر مہنگے داموں میں لینا چاہتے ہیں انھوں نے فرمایا : میں امیر المومنین کو لکھ کر پوچھتا ہوں۔
انہوں نے یہ واقعہ حضرت عمر (رض) کو لکھ کر بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب میں فرمایا : اے عمرو ! تم اس شاہ مصر سے سوال کرو کہ وہ اس قدر بڑی رقم ایسی زمین کی کیوں دینا چاہتا ہے جس کو زراعت کیا جاسکتا ہے نہ اس میں پانی ہے اور نہ کوئی اور اس کا فائدہ ہے ؟ حضرت عمرو (رض) نے مقوقس سے سوال کیا تو اس نے کہا : ہم اپنی کتابوں میں اس زمین کے متعلق یہ بات پاتے ہیں کہ اس میں جنت کے درخت ہیں۔ حضرت عمرو (رض) نے امیر المومنین کو یہ جواب لکھ دیا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب بھیجا کہ ہمیں تو یہی معلوم ہے کہ جنت کے درخت صرف اور صرف مومنین کے لیے ہیں۔ لہٰذا جو مسلمان تمہاری طرف انتقال کر جائیں ان کو اسی سرزمین میں دفن کرو اور کسی بھی قیمت پر اس کو فروخت نہ کرو۔
ابن عبدالحکم