14231- عن حسين ين شفي بن عبيد قال: لما فتحت الإسكندرية اختلف الناس على عمرو في قسمها فقال عمرو: لا أقدر على قسمها حتى أكتب إلى أمير المؤمنين، فكتب إليه يعلمه بفتحها وشأنها، ويعلم أن المسلمين طلبوا قسمها فكتب إليه عمر لا تقسمها وذرهم يكون خراجها فيئا للمسلمين وقوة لهم على جهاد عدوهم، فأقرها عمرو وأحصى أهلها وفرض عليهم الخراج. "ابن عبد الحكم".
14231 حسین بن شفی بن عبید سے مروی ہے کہ جب اسکندریہ فتح ہوگیا تو اس کی تقسیم کے بارے میں لوگوں نے حضرت عمر (رض) سے اختلاف کیا۔ حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : میں اس کی تقسیم پر قادر نہیں جب تک کہ امیر المومنین کو نہ لکھ دوں۔ چنانچہ انھوں نے امیر المومنین کو اس کی فتح کا حال لکھا کہ مسلمان اس کی تقسیم طلب کررہے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے لکھا : تم اس کو ہرگز تقسیم نہ کرو۔ بلکہ اس کو سابقہ حالت پر چھوڑ دو اور پھر اس کا خراج مسلمانوں کے لیے مال غنیمت بھی ہوگا اور ان کے لیے دشمنوں سے جہاد پر قوت کا سامان بھی ہوگا۔ چنانچہ حضرت عمرو (رض) نے کافروں کو ان کی اراضی پر مالک رہنے دیا اور ان پر خراج (ٹیکس) لاگو کردیا۔ ابن عبدالحکم