14233- عن يزيد بن أبي حبيب أن عمر بن الخطاب كتب إلى سعد بن أبي وقاص وهو نازل بمدائن كسرى وإلى عامله بالبصرة وإلى عمرو بن العاص وهو نازل بالإسكندرية أن لا تجعلوا بيني وبينكم ماء متى أردت أن أرحل إليكم راحلتي أقدم عليكم قدمت، فتحول سعد بن أبي وقاص من مدائن كسرى إلى الكوفة وتحول صاحب البصرة من المكان الذي كان فيه فنزل البصرة وتحول عمرو بن العاص من الإسكندرية إلى الفسطاط. "ابن عبد الحكم".
14233 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو جو مدائن کسریٰ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے، بصرہ میں مقرر اپنے عامل کو اور حضرت عمرو بن العاص (رض) کو جو اسکندریہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے ، ان سب کو لکھا کہ :
میرے اور اپنے پڑاؤ کے مقام کے درمیان (سمندریا دریا کا) پانی حائل نہ ہونے دو تاکہ میں جب بھی تمہارے پاس آنا چاہوں اپنی سواری پر بیٹھ کر آجاؤں۔
چنانچہ یہ حکم سن کر سعد بن ابی وقاص مدائن کسریٰ سے کوفہ ، امیر بصرہ اپنے پہلے مقام سے بصرہ اور عمرو بن العاص اسکندریہ سے فسطاط آگئے تھے۔ ابن عبدالحکم