14244- عن ابن عمر قال حضرت أبي حين أصيب فأثنوا عليه، فقالوا: جزاك الله خيرا فقال: راغب وراهب فقالوا: استخلف فقال: أتحمل أمركم حيا وميتا، ولوددت أن حظي منها الكفاف لا علي ولا لي فإن أستخلف فقد استخلف من هو خير مني يعني أبا بكر، وإن أترككم فقد ترككم من هو خير مني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال عبد الله: فعرفت أنه حين ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم غير مستخلف. "حم م ق"
14244 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے پاس حاضر خدمت تھا جب ان پر حملہ کیا گیا۔ لوگ ان کو دعائیں دے رہے تھے : اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ میرے والد حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اپنے رب سے خیر کی آس رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں پر اس کا خوف بھی دامن گیر ہے۔ لوگوں نے درخواست کی آپ خلیفہ منتخب کرجائیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں زندگی میں بھی اور موت میں بھی تمہارا بوجھ اٹھاؤں کیا ؟ میری تو حسرت ہے کہ کاش مجھے برابر سرابر میں چھوڑ دیا جائے، نہ مجھ سر اس کا وبال ہو اور خواہ اس کا فائدہ بھی نہ ہو۔ اگر میں خلیفہ بنا کر جاؤں تو مجھ سے بہتر شخص ابوبکر بھی خلیفہ بنا کر گئے تھے اور اگر میں تم کو یونہی چھوڑ جاؤں تو تم کو وہ ذات بھی یونہی چھوڑ گئی تھی جو مجھ سے بدرجہا بہتر ہے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : تب میں نے جان لیا کہ جب آپ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کردیا تو اب وہ ان کی اتباع میں ہرگز کسی کو خلیفہ منتخب کرکے نہیں جاسکتے۔ مسند احمد، مسلم، السنن للبیہقی