14248- عن أبي رافع أن عمر كان مستندا إلى ابن عباس وعنده ابن عمر وسعيد بن زيد قال: اعلموا أني لم أقل في الكلالة شيئا ولم أستخلف من بعدي أحدا وأنه من أدرك وفاتي من سبي العرب فهو حر من مال الله، فقال سعيد بن زيد: أما إنك لو أشرت برجل من المسلمين لائتمنك الناس وقد فعل ذلك أبو بكر وائتمنه الناس، فقال عمر: قد رأيت من أصحابي حرصا سيئا وإني جاعل هذا الأمر إلى هؤلاء النفر الستة الذين مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، ثم قال عمر: لو أدركني أحد رجلين ثم جعلت هذا الأمر إليه لوثقت به سالم مولى أبي حذيفة وأبو عبيدة بن الجراح. "حم حب ك"
14248 ابورافع سے مروی ہے کہ (مرض الموت میں) حضرت عمر (رض) حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ ان کے پاس ابن عمر (رض) اور سعید (رض) بن زید بھی تھے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جان لو ! کلالہ (ایسا شخص جس کے اولاد ہو اور نہ والدین اور وہ مرجائے) کے بارے میں کچھ نہیں کہا اور میں نے اپنے بعد خلافت کے لیے کسی کو نہیں چنا۔ اور میری موت کو جو عربی غلام پائیں وہ اللہ کے مال میں سے آزاد ہیں (یعنی بیت المال کے عربی غلام) سعید بن زید نے عرض کیا : اگر آپ مسلمانوں میں سے کسی کے لیے خلافت کا اشارہ کردیں تو اچھا ہو کیونکہ لوگ آپ کو امانت دار سمجھتے ہیں جیسا کہ ابوبکر (رض) نے کیا تھا اور لوگ ان کو بھی امانت دار سمجھتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے اپنے ساتھیوں میں اس منصب کی بری لالچ محسوس کی ہے اب میں اس امر خلافت کو ان چھ لوگوں میں چھوڑ دیتا ہوں، جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی وفات کے وقت خوش تھے ۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر اس وقت دو آدمیوں میں سے کوئی زندہ ہوتا تو میں اس منصب کو اس کے سپرد کردیتا کیونکہ مجھے ان پر پورا بھروسہ تھا : سالم جو ابو حذیفہ کے غلام تھے اور ابوعبیدۃ الجراح (رض) اجمعین۔ مسند احمد ، ابن حبان، مستدرک الحاکم