hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14263

.

كنز العمال

14263
Kanz al-Ummal
14263- عن أبي العجفاء الشامي من أهل فلسطين، قال: قيل لعمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين لو عهدت قال: لو أدركت عبيدة بن الجراح، ثم وليته، ثم قدمت على ربي فقال لي: من استخلفت على أمة محمد لقلت سمعت عبدك ونبيك صلى الله عليه وسلم يقول: لكل أمة أمين، وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح، ولو أدركت معاذ بن جبل ثم وليته ثم قدمت على ربي فقال لي: من استخلفت على أمة محمد؟ لقلت: سمعت عبدك ونبيك صلى الله عليه وسلم يقول: يأتي معاذ بين العلماء بربوة ولو أدركت خالد بن الوليد ثم وليته ثم قدمت على ربي فسألني من استخلفت على أمة محمد؟ لقلت: سمعت عبدك ونبيك صلى الله عليه وسلم يقول لخالد بن الوليد: سيف من سيوف الله سله الله على المشركين. "أبو نعيم كر" وأبو العجفاء مجهول لا يدري من هو؟.
14263 ابوالجفاء الشامی فلسطینی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کہا گیا امیر المومنین ! اگر آپ ولی عہد منتخب کرجاتے ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر میں ابوعبیدۃ الجراح کو پالیتا تو ان کو والی بنا دیتا پھر میں اپنے پروردگار کے پاس جاتا اور پروردگار مجھ سے پوچھتا کہ تم امت محمدیہ پر کس کو خلیفہ بنا آئے ہو تو میں عرض کرتا کہ میں نے تیرے بندے اور تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدۃ بن الجراح ہے۔ اگر میں معاذ بن جبل کو پالیتا تو ان کو والی بنادیتا پھر میں اپنے رب کے پاس جاتا اور رب مجھ سے پوچھتا کہ امت محمدیہ پر کس کو خلیفہ بنا کر آئے ہو ؟ تو میں عرض کردیتا : میں نے تیرے بندے اور تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے : معاذ علماء کے درمیان سب سے اونچے مقام پر آئیں گے۔ اور اگر میں خالد بن الولید کو پالیتا تو ان کو والی بنادیتا پھر میں اپنے رب کے پاس جاتا اور رب مجھ سے پوچھتا کہ تم امت محمدیہ پر کس کو خلیفہ بنا کر آئے ہو تو میں عرض کرتا کہ میں نے تیرے بندے اور تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خالد بن الولید کے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو اللہ پاک نے مشرکین پر سونت لی ہے۔ ابونعیم ، ابن عساکر
کلام : ابوالجفاء یہ مجہول نامعلوم راوی ہے معلوم نہیں وہ کون ہے اس بناء پر روایت محل کلام ہے۔