hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14265

.

كنز العمال

14265
Kanz al-Ummal
14265- عن أسلم قال: قال عبد الله بن عمر بعد أن طعن عمر: يا أمير المؤمنين ما عليك لو اجتهدت نفسك ثم أمرت عليهم رجلا فقال عمر: أقعدوني، ثم قال: من أمرتم بأفواهكم؟ فقلت: فلانا قال: إن تؤمروه فإنه ذو شيعتكم، ثم أقبل على عبد الله فقال: ثكلتك أمك أرأيت الوليد ينشأ مع الوليد وليدا أو ينشأ معه كهلا أتراه يعرف من خلقه. قال: نعم يا أمير المؤمنين قال: فما أنا قائل لله إذا سألني عمن أمرت عليهم؟ فقلت: فلانا وأنا أعلم منه ما أعلم، فلا والذي نفسي بيده لأردنها إلى الذي رفعها إلي أول مرة لوددت أن عليها من هو خير مني لا ينقصني مما أعطاني الله شيئا. "كر".
14265 اسلم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) پر حملہ ہونے کے بعد ان کو ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر نے ان کو عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر آپ غور وفکر کرکے لوگوں پر کوئی آدمی امیر مقرر کرجائیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے بٹھادو۔ پھر فرمایا : تم نے اپنے مونہوں کے ساتھ کس کو امیر بنایا ہے ؟ میں نے عرض کیا : فلاں کو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر تم اس کو امیر بناتے ہو تو وہ تمہارے گروہ کا ہے۔ پھر آپ (رض) عبداللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تیری ماں تجھے روئے ! تو کیا دیکھتا ہے بچہ بچے کے ساتھ پرورش پاتا ہے یا بوڑھے کے ساتھ پرورش پاتا ہے۔ یقیناً وہ بچوں کے درمیان ہی پرورش پاتا ہے کیا وہ اپنے پیدا کرنے والے کو جانتا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں امیر المومنین ! فرمایا : پھر جب اللہ مجھ سے سوال کرے گا کہ میں لوگوں پر کس کو امیر بنا کر آیا ہوں تو میں اس کو جس کسی کا نام لوں گا میں اس کے متعلق جانتا ہوں گا جو جانتا ہوں گا۔ پھر میں کسی کو کیسے امیر بناسکتا ہوں جب میں اس کے متعلق پوری طرح مطمئن نہیں، پس ایسے نہیں ہوسکتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس منصب کو اسی کی طرف واپس لوٹا دوں گا جس نے پہلے مجھے سونپا تھا۔ یعنی میں اللہ کے حوالے اس کو کر جاؤں گا میری تو خواہش ہے کہ اس پر مجھ سے بہتر شخص آئے اور جو اللہ نے مجھے خدمات کرنے کا موقع عنایت کیا ہے ان میں کچھ کمی نہ کرے بلکہ مزید ترقی کرے۔ ابن عساکر