14281- عن الحارث بن سويد قال: قيل لعلي إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خصكم دون الناس عامة؟ قال: ما خصنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء لم يخص به الناس إلا ما في قراب سيفي هذا فأخرج صحيفة فيها شيء من أسنان الأبل؟؟، وفيها أن المدينة حرم ما بين ثورإلى عير فمن أحدث فيها حدثا أو آوى محدثا فإنه عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا، وذمة المسلمين واحدة فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا. "حم ن وابن جرير حل"
14281 حارث بن سوید سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) سے کہا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے ساتھ کوئی خاص وصیت یا معاہدہ کیا ہے جو عام لوگوں کے ساتھ نہ کیا ہو ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ کوئی خاص عہد نہیں کیا جو اور لوگوں کے ساتھ نہ کیا ہو، سوائے اس صحیفے کے جو میری اس تلوار کی زکوۃ کے متعلق احکام تھے، نیز یہ کہ مدینہ ثور سے عیر تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کوئی حدث کیا (حرم کے تقدس کو پامال کیا) یا کسی محدث کو ٹھکانا دیا اس پر اللہ کی لعنت ہے، ملائکہ کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ پاک اس سے کوئی نفل قبول کرے گا اور نہ فرض ۔ نیز مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا اس پر اللہ کی، ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ پاک قیامت کے روز اس کا کوئی نفل قبول کریں گے اور نہ فرض۔
مسند احمد، النسائی، ابن جریر، حلیۃ الاولیاء