14283- عن الحارث بن عبد الله الجهني قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن، ولو أوقن أنه يموت لم أفارقه فأتاني قائل بخبر أن محمدا قد مات، قلت متى؟ قال: اليوم، فلو أن عندي سلاحا لقاتلته فلم ألبث إلا يسيرا حتى أتاني آت من أبي بكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد توفي فبايع الناس خليفته من بعده فبايع من قبلك، فقلت للرجل الذي أخبرني: من أين علمت ذلك؟ قال: إن في الكتاب الأول أنه يموت نبي في هذا اليوم، قلت: وكيف يكون بعده؟ قال: ستدور رحاهم إلى خمس وثلاثين سنة. "أبو نعيم".
14283 حارث بن عبداللہ الجہنی سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف بھیجا، اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ میرے پیچھے وفات پاجائیں گے تو میں ہرگز آپ سے جدا نہ ہوتا۔ پھر میرے پاس ایک آنے والا خبر لے کر آیا کہ محمد کی وفات ہوگئی ہے۔ میں نے پوچھا : کب ؟ اس نے کہا : آج۔ اگر میرے پاس اسلحہ ہوتا تو میں اس آدمی سے جنگ کر بیٹھتا۔ پھر تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ حضرت ابوکر (رض) کی طرف سے ایک قاصد آیا اور بولا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی ہے لوگوں نے ان کے بعد ان کے خلیفہ ابوبکر کی بیعت کرلی ہے، لہٰذا آپ بھی اس کی بیعت کرلیں جو آپ کی طرف (ان کی جانب سے گورنر مقرر) ہے۔ تب مجھے اس خبر پر یقین آیا پھر میں نے پہلے شخص سے پوچھا : کہ تم کو یہ خبر کیسے معلوم ہوئی (حالانکہ تم یہیں رہ رہے تھے) اس نے کہا : پہلی (آسمانی) کتاب میں ہے کہ یہ نبی آج کے دن مرے گا۔ میں نے پوچھا : اس کے بعد کیا ہوگا (ہماری کتاب کیا کہتی ہے ؟ ) اس نے کہا : ان کی چکی پینتیس سال تک چلتی رہے گی۔ (یعنی خلافت پینتیس سال تک نبوت کے طریق پر قائم رہے گی) ۔ ابونعیم