hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14288

.

كنز العمال

14288
Kanz al-Ummal
14288- عن رافع الطائي قال: صحبت أبا بكر في غزوة فلما قفلنا قلت: يا أبا بكر أوصني قال: أقم الصلاة المكتوبة لوقتها وأد زكاة مالك طيبة بها نفسك، وصم رمضان، واحجج البيت، واعلم أن الهجرة في الإسلام حسن وأن الجهاد في الهجرة حسن ولا تكن أميرا، ثم قال: هذه الإمارة التي ترى اليوم سيرة قد اوشكت أن تفشو وتكثر حتى ينالها من ليس لها بأهل، وانه من يكن أميرا فإنه من أطول الناس حسابا وأغلظه عذابا، ومن لا يكون أميرا فإنه من أيسر الناس حسابا وأهونه عذابا لأن الأمراء أقرب الناس من ظلم المؤمنين، ومن يظلم المؤمنين فإنما يخفر الله هم جيران الله وهم عباد الله، والله إن أحدكم لتصاب شاة جاره أو بعير جاره فيبيت وارم العضل يقول: شاة جاري أو بعير جاري فإن الله أحق أن يغضب لجيرانه. "ابن المبارك في الزهد"
14288 رافع الطائی سے مروی ہے کہ میں ایک غزوہ میں حضرت ابوبکر (رض) کی ہم صحبت تھا۔ جب ہم غزوے سے واپس لوٹنے لگے، میں نے عرض کیا : اے ابوبکر ! مجھے کچھ نصیحت فرما دیجئے ! حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا :
فرض نماز اس کے وقت پر قائم کر، اپنے مال کی زکوۃ جی جان سے ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، بیت اللہ کا حج کر، یادرکھ ! اسلام میں ہجرت اچھا عمل ہے، جہاد ہجرت میں اچھا عمل ہے۔ کبھی امیر نہ بننا۔ پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ امارت۔ حکومت جو آج تم دیکھ رہے ہو ایک نمونہ ہے۔ قریب ہے کہ یہ پھیل جائے اور (اس قدر) اس کی کثرت ہوجائے کہ نااہل بھی اس کو پالیں۔ جو امیر ہوگا وہ لوگوں میں سب سے طویل حساب کتاب کا سامنا کرے گا اور سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اور جو امیر (حاکم) نہ ہوگا وہ آسان حساب دے گا اور (اگر اس پر عذاب ہوا تو) اس کا عذاب بھی آسان ہوگا، کیونکہ حکام مومنین پر ظلم کرنے میں قریب ہوتے ہیں۔ جو مومنین پر ظلم کرتا ہے وہ اللہ کے ذمے کو توڑتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے پڑوسی اور اس کے بندے ہیں۔ اللہ کی قسم ! تمہارے کسی پڑوسی کی بکری یا اونٹ کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو وہ بھی تکلیف اور دکھ محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے : ہائے میرے پڑوسی کی بکری یا اونٹ کیسی تکلیف میں ہے۔ تو اللہ پاک تو اپنے پڑوسی کی وجہ سے زیادہ غضب ناک ہوتا ہے۔ ابن المبارک فی الزھد