14290- عن حية بنت أبي حية قالت: دخل علي رجل بالظهيرة فقلت ما حاجتك يا عبد الله؟ قال: أقبلت أنا وصاحب لي في بغاءإبل لنا؛ فانطلق صاحبي يبغي ودخلت في الظل أستظل وأشرب من الشراب، قالت: فقمت إلى لبنية لنا حامضة فسقيته منها وتوسمته وقلت: يا عبد الله من أنت؟ قال: أبو بكر، قلت: أبو بكر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي سمعت به؟ قال: نعم فذكرت له غزونا خثعم في الجاهلية وغزو بعضنا بعضا وما جاء الله به من الإلف، فقلت: يا عبد الله حتى متى أمر الناس هذا؟ قال: ما استقامت الأئمة، قال ألم ترى السيد يكون في الحي أيتبعونه ويطيعونه فهم أولئك ما استقاموا. "مسدد وابن منيع والدارمي" قال ابن كثير إسناده حسن جيد.
14290 حیۃ بنت ابی حیۃ فرماتی ہیں : ایک آدمی (دن کی کڑی) دوپہر میں میرے پاس آیا میں نے پوچھا : اے بندہ خدا تیری کیا حاجت ہے ؟ آدمی نے کہا : میں اور میرا ساتھی اپنے اونٹ کی تلاش میں نکلے تھے۔ میرا ساتھی تو تلاش میں نکل گیا ہے جبکہ میں سائے میں آگیا تاکہ کچھ سستالوں، مجھے کچھ (پانی غیرہ) پینے کی طلب ہے۔ حیۃ کہتی ہیں : میں اپنی اونٹنی کے پاس گئی جو تھوڑا بہت دودھ دے دیتی تھی میں نے اس کا دودھ دوھ کر اس آدمی کو پلایا۔ مجھے اس آدمی میں نیک صورت نظر آئی۔ میں نے اس سے پوچھا : اے بندہ خدا تو کون ہے ؟ اس نے کہا : ابوبکر۔ میں نے پوچھا : کیا وہی ابوبکر جو رسول اللہ کا ساتھی ہے، جس کے متعلق میں نے سنا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ تب میں نے ابوبکر (رض) کو اپنے لوگوں کی زمانہ جاہلیت کی کچھ جنگوں اور دوستیوں کا حال سنایا جو قبیلہ حتعم وغیرہ کے ساتھ ہوئی تھیں۔ پھر میں نے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! لوگوں کی امن و سکون والی یہ حالت کب تک رہے گی ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب تک ائمہ درست رہیں گے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : کیا تو قبیلے کے سردار کو نہیں دیکھتی لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں، پس یہ قوم کے سردار جب تک درست رہیں گے (تب تک یونہی امن و سکون رہے گا) ۔ مسدد، ابن منبع، مسند الدارمی
ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس کی اسناد حسن جید ہے۔