14384- عن أبي ذر قال: بينما أنا نائم في المسجد إذ خرج علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فضربني برجله، فقال: ألا أراك نائما؟ فقلت يا رسول الله غلبتني عيني، قال: فكيف تصنع إذا أخرجوك منه؟ قلت: ألحق بالشام فإنها أرض المحشر والأرض المقدسة، قال: فكيف إذا أخرجوك منها؟ قلت: أرجع إلى مهاجري قال: فكيف إذا أخرجوك؟ قلت: آخذ سيفي فأضرب به، قال: أولا تصنع خيرا من ذلك وأقرب؟ تسمع وتطيع وتنساق معهم حيث ساقوك. "ابن جرير".
14384 حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ میں مسجد میں سو رہا تھا کہ اچانک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھے پاؤں مار کر اٹھایا اور فرمایا : کیا بات ہے میں (تجھے) سوتا دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! نیند مجھ پر غالب آگئی تھی۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تجھے یہاں سے لوگ نکالیں گے (جلاوطن کریں گے) تب تم کیا کروں گے ؟ میں نے عرض کیا : میں ملک شام چلا جاؤں گا کیونکہ وہیں میدان حشر ہوگا اور وہ مقدس سرزمین ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب وہاں سے بھی لوگ تم کو نکالیں گے تب کہاں جاؤ گے ؟ میں نے عرض کیا : پھر میں دوسارہ اپنے اسی وطن ہجرت (مدینہ) لوٹ آؤں گا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تب میں اپنی تلوار اٹھالوں گا اور جنگ کروں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو اس سے بہتر عمل اور زیادہ مقرب عمل کیوں نہیں کرتا ؟ تو اپنے امیر کی بات سننا اور اس پر عمل کرنا اور جہاں تجھے وہ کھینچے تو کھنچ جانا۔ ابن جریر