14391- عن شريح بن عبيد حدثنا جبير بن نفير وكثير بن مرة وعمير بن أسود والمقدام وأبو أمامة في نفر من الفقهاء أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله هذا الأمر في قومك فوصهم بنا؛ فقال لقريش: إني أذكركم الله أن لا تشقوا على أمتي من بعدي، ثم قال للناس: سيكون من بعدي أمراء فأدوا لهم طاعتهم، فإن الأمير مثل المجن
يتقى به فإن أصلحوا وأمروكم بخير فلكم ولهم، وإن أساؤوا وأمروكم به فعليكم أنتم منه برءاء، فإن الأمير إذا ابتغى الريبةفي الناس أفسدهم، ثم يقول: إنا سمعنا الرسول يقول ذلك. "ابن جرير".
14391 شریح بن عبید سے مروی ہے کہ ہمیں جبیر بن نفیر، کثیر بن مرۃ، عمیر بن اسود، مقدام اور ابوامامہ جیسے فقہاء کی ایک جماعت نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ سلطنت آپ کی قوم کے ہاتھوں میں ہے، آپ ان کو ہمارے بارے میں خیر خواہی اور اچھے سلوک کی تاکید فرمادیں۔ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کو مخاطب ہو کر فرمایا :
میں تم لوگوں کو تاکید کرتا ہوں کہ میرے بعد میری امت پر سختی نہ کرنا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامۃ المسلمین سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
عنقریب میرے بعد امراء (حکام) ہوں گے۔ تم ان کی اطاعت کرتے رہنا۔ بیشک امیر ڈھال کی طرح ہوتا ہے جس کے ساتھ (حملوں سے) بچا جاتا ہے ، پس اگر وہ سیدھی راہ پر گامزن رہے اور تم کو بھی بھلائی کا حکم دیا تو تمہارے لیے اور ان کے لیے دونوں کے لیے خیر ہے۔ اگر انھوں نے برائی کی اور برائی کا حکم دیا تو تم برائی سے اجتناب کرنا اور تم ان سے بری ہو۔ بیشک امیر جب لوگوں کے ساتھ برائی کرتا ہے تو ان کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔
راوی کتا ہے : ہم نے رسول کو یونہی فرماتے سنا ہے۔ ابن جریر