hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14405

.

كنز العمال

14405
Kanz al-Ummal
14405- عن ابن عباس قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشا وأمر عليهم رجلا من الأنصار وأمرهم أن يسمعوا له وأن يطيعوا فسار فنزل منزلا فوجد عليهم في بعض الأمر، فقال: أو ليس قد أمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى، قال وهم عند غيضة قال: فإني أعزم عليكم أن يقوم كل رجل منكم حتى يحمل وقرهمن هذه الغيضةحتى تجمعوه فجمعوه فأوقد فيه النار حتى صارت نارا ضخمة، ثم قال: عزمت عليكم إلا وقعتم فيها، فقال بعضهم: إنما نفر من النار وقام آخرون ليقعوا فيها فمنعهم الآخرون؛ فلما قدموا على النبي صلى الله عليه وسلم ذكروا له ذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم للذين أبوا ما منعكم أن تقعوا فيها؟ فقالوا: أمرتنا أن نطيعه فعزم علينا أن نقع فيها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما أنتم فقد أحسنتم حين منعتموهم، واما أنتم فلو وقعتم فيها ما خرجتم منها أبدا إنما الطاعة في المعروف. "ابن جرير".
14405 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک انصاری کو امیر بنایا۔ نیز لشکر کو حکم دیا کہ وہ اپنے امیر کی سنیں اور اطاعت کریں۔ پھر لشکر کوچ کر گیا اور ایک منزل پر فروکش ہوگیا۔ امیر لشکر کو کسی بات میں اہل لشکر پر غصہ آگیا۔ امیر نے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو حکم نہیں دیا کہ تم میری اطاعت کرو۔ اہل لشکر نے عرض کیا : بالکل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت وہ لوگ درختوں کے جھنڈے کے پاس تھے۔ چنانچہ امیر لشکر نے ان کو کہا : میں تم کو سختی کے ساتھ حکم دیتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک اس جھنڈ میں لکڑیاں اکٹھی کرے۔ چنانچہ سب نے مل کر لکڑیوں کا انبار لگادیا۔ پھر امیر لشکر نے اس میں آگ بھڑکائی۔ حتیٰ کہ آگ خوب شعلہ زن ہوگئی تو پھر امیر نے اہل لشکر کو حکم دیا کہ میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں کود جاؤ۔ بعض لشکر یوں نے کہا : ہم تو آگ سے بھاگ کر آئے تھے (اب کیوں آگ میں کو دیں) جبکہ بعض دوسرے کودنے کے لیے تیار ہوگئے۔ لیکن ان کو دوسرے ساتھیوں نے روک لیا۔ چنانچہ جب یہ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا جنہوں نے آگ میں کودنے سے انکار کردیا تھا کہ تم کیوں نہیں کودنے کے لیے آمادہ ہوئے ؟ انھوں نے جواب دیا : آپ نے ہمیں امیر کی اطاعت کا حکم دیا تھا جبکہ اس نے ہم پر سختی کے ساتھ تاکید کی کہ ہم آگ میں کو دیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بہرحال تم نے اچھا کیا انکار کرکے۔ اور پھر دوسرے گروہ کو فرمایا : اگر تم لوگ آگ میں کود جاتے تو کبھی بھی اس سے نہ نکل پاتے۔ بیشک اطاعت تو صرف نیکی کے کام میں ہے۔ ابن جریر