14414- عن عروة قال: أتيت ابن عمر فقلت: إنا نجلس إلى أئمتنا هؤلاء فيتكلمون بالكلام، ونحن نعلم أن الحق مع غيرهم فنصدقهم، ويقضون بالجور فنقويهم ونحسنه لهم فكيف ترى في ذلك؟ فقال: يا ابن أخي كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نعد هذا النفاق فلا أدري كيف هو عندكم؟
"هب"
14414 حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : ہم لوگ ان حکمرانوں کے پاس بیٹھتے ہیں وہ علم کلام میں گفتگو کرتے ہیں جبکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ حق پر وہ نہیں کوئی اور ہیں۔ مگر ہم ان حکام کی تصدیق کرتے رہتے ہیں۔ نیز وہ ظلم پر مبنی فیصلے کرتے ہیں، ہم ان کو تقویت پہنچاتے ہیں اور ایسا عمل ان کی نظروں میں قابل تحسین کراتے ہیں تو آپ ہمارے اس طرز عمل کو کیا خیال کرتے ہیں (اے ابن عمر ! ) حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اے بھتیجے ! ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے تھے تو اس عمل کو نفاق شمار کرتے تھے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے نزدیک اس کی کیا حیثیت ہے ؟ شعب الایمان للبیہقی