hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14422

.

كنز العمال

14422
Kanz al-Ummal
14422- عن ابن إسحاق عن عمران بن كثير قال: قدمت الشام فإذا قبيصة بن ذويب قد جاء برجل من العراق فادخله على عبد الملك بن مروان فحدثه عن أبيه عن المغيرة بن شعبة أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن الخليفة لا يناشد قال: فأعطى وكسى وحيى، قال فحك في نفسي فقدمت المدينة فلقيت سعيد بن المسيب فحدثته فقال: قاتل الله قبيصة كيف باع دينه بدنياه فإنه والله ما من امرأة من خزاعة قعيدة في بيتها إلا قد حفظت قول عمرو بن سالم الخزاعي لرسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم إني ناشد محمدا حلف أبينا وأبيه الأتلدا فيناشد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يناشد الخليفة. "كر"
14422 ابن اسحاق، عمران بن کثیر سے روایت کرتے ہیں، عمران کہتے ہیں : میں ملک شام گیا، وہاں قبیصہ بن ذویب کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ساتھ ایک شخص کو لے کر آیا اور اس کو خلیفہ عبدالملک بن مروان کے سامنے پیش کیا۔ اس آدمی نے خلیفہ عبدالملک کو حدیث بیان کی کہ وہ اپنے والد سے اور اس کا ولد حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت نقل کرتا ہے کہ رسول اللہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : خلیفہ کو قسم نہیں دلائی جائے گی۔ یعنی کسی مقدمے میں خلیفہ کا قول قسم سے بڑھ کر ہے۔
چنانچہ خلیفہ نے اس کو انعام دیا اور خلعت سے نوازا اور سلام (کرکے رخصت) کیا۔ عمران بن کثیر کہتے ہیں : یہ بات میرے دل میں کھٹک گئی چنانچہ میں مدینہ (منورہ) آیا اور حضرت سعید بن المسیب (رح) سے ملاقات کی اور ان کو سارے واقعے کی خبر سنائی۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) نے فرمایا : اللہ قبیصہ کا ستیاناس کرے، کیسے اس نے اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر ڈالا ہے۔ اللہ کی قسم قبیلہ خزاعہ کی کوئی عورت خواہ وہ اپنے گھر میں بیٹھنے والی ہو ایسی نہیں ہے جس کو عمرو بن سالم خزاعی کا قول یادنہ ہو جو اس نے نبی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا تھا :
اللھم انی فایشد محمداً حلف ابنا وابیہ الاتلدا
اے اللہ ! میں محمد کی قسم اٹھانے کا کہتا ہوں حالانکہ ہمارے باپ اور ان کے باپ جو موروثی مال والے ہیں آپس میں حلیف ہیں۔
پھر سعید بن المسیب (رح) نے فرمایا : عجیب بات ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو قسم دی جائے لیکن خلیفہ کی قسم اٹھانے سے بری قرار دیا جائے یہ کیسے ممکن ہے۔ ابن عساکر