hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14426

.

كنز العمال

14426
Kanz al-Ummal
14426- عن قتادة عن أبي العالية عن علي قال: القضاة ثلاثة فاثنان في النار وواحد في الجنة؛ فأما اللذان في النار فرجل جار على الحق متعمدا ورجل اجتهد برأيه فأخطأ، وأما الذي في الجنة فرجل اجتهد برأيه في الحق فأصاب، فقلت لأبي العالية: ما بال هذا الذي اجتهد برأيه في الحق فأخطأ قال: لو شاء لم يجلس يقضي وهو لا يحسن يقضي. "هق"وقال في تفسير أبي العالية: دليل على وزر من اجتهد برأيه وهو من غير أهل الاجتهاد.
14426 قتادہ، ابوالعالیہ سے، اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں :
قاضی تین طرح کے ہیں : دو جہنم میں ہیں اور ایک جنت میں۔ دو جہنم والوں میں سے ایک تو وہ قاضی ہے جو جان بوجھ کر حق کے خلاف ظلماً فیصلہ کرے۔ دوسرا وہ قاضی ہے جو اپنی رائے میں حق کے لیے خوب اجتہاد تو کرے پھر بھی اس سے فیصلہ میں خطا سرزد ہوجائے۔ اور جنت میں جانے والا قاضی وہ ہے جو اپنی رائے میں حق کے مطابق اجتہاد کرے اور درست فیصلہ صادر کرے۔
قتادہ (رح) کہتے ہیں : میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا کہ جو قاضی اپنی رائے میں حق کے مطابق اجتہاد کرے مگر اس سے فیصلے میں خطا سرزد ہوجائے تو وہ کس قصور میں جہنم جائے گا۔ ابوالعالیہ (رح) نے فرمایا : وہ قاضی اگر چاہتا تو فیصلہ کرنے بیٹھتا ہی نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح قضاء (فیصلہ) نہیں کرسکتا۔ السنن الکبری للبیہقی
فائدہ : امام بیہقی (رح) ابوالعالیہ کے قول کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو اہل اجتہاد میں سے نہیں ہیں پھر بھی وہ اجتہاد کریں تو یہ ان کے گناہ پر ہونے کی دلیل ہے۔