14434- عن علي قال: بعثني النبي صلى الله عليه وسلم قاضيا يعني إلى اليمن، فقلت: يا رسول الله غني شاب وتبعثني إلى أقوام ذوي أسنان فدعا لي بدعوات ثم قال: إذا أتاك الخصمان فسمعت من أحدهما فلا تقضين حتى تسمع من الآخر، فإنه أثبت لك، قال فما اختلف علي بعد ذلك. "ق".
14434 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں جوان العمر آدمی ہوں اور آپ مجھے ایسے لوگوں کے پاس بھیج رہے ہیں جو اچھی عمروں والے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے چند دعائیں کی پھر ارشاد فرمایا : جب تیرے پاس دو فریق اپنا مقدمہ لے کر آئیں اور تو ان میں سے ایک کی بات سن لے تو اس وقت تک فیصلہ نہ کر جب تک دوسرے کی بات نہ سن لے۔ یہ تیرے لیے زیادہ پختہ بات ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی (رض) نے اختلاف نہیں فرمایا۔ السنن الکبریٰ للبیہقی