hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14445

.

كنز العمال

14445
Kanz al-Ummal
14445- عن الشعبي قال: كان بين عمر وبين أبي بن كعب خصومة فقال عمر: اجعل بيني وبينك رجلا، فجعلا بينهما زيد بن ثابت فأتياه فقال عمر: أتيناك لتحكم بيننا وفي بيته يؤتى الحكم فلما دخلا عليه وسع له زيد عن صدر فراشه فقال: ها هنا يا أمير المؤمنين، فقال له عمر: هذا أول جور جرت في حكمك ولكن أجلس مع خصمي فجلسا بين يديه فادعى أبي وأنكر عمر فقال زيد لأبي: أعف أمير المؤمنين من اليمين وما كنت لأسألها لأحد غيره فحلف عمر ثم أقسم لا يدرك زيد القضاء حتى يكون عمر ورجل من عرض المسلمين عنده سواء. "ص هق كر"
14445 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) اور ابی بن کعب (رض) کے درمیان کسی چیز پر آپس میں جھگڑا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنے درمیان اور میرے درمیان کسی کو ثالث مقرر کرلو۔ چنانچہ دونوں نے زید بن ثابت کو اپنا فیصل مقرر کرلیا۔ پھر دونوں ان کے پاس چل کر آئے۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم تمہارے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ تم ہمارے درمیان فیصلہ کردو۔ حالانکہ تمام فیصلے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آتے تھے۔ چنانچہ جب دونوں حضرات حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس پہنچ گئے تو حضرت زید (رض) نے اپنے بچھونے پر حضرت عمر (رض) کے لیے جگہ چھوڑ دی اور بولے : اے امیر المومنین ! یہاں آئیے، یہاں ! حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : یہ پہلا ظلم ہے جو تم نے اپنے فیصلے میں ظاہر کیا۔ بلکہ میں اپنے فریق کے ساتھ بیٹھنا پسند کروں گا۔ آخر کار دونوں حضرات حضرت زید بن ثابت (رض) کے سامنے بیٹھ گئے۔
حضرت ابی (رض) نے کسی چیز کے متعلق دعویٰ ظاہر کیا۔ حضرت عمر (رض) نے انکار کردیا ۔ قاعدہ کے مطابق ابی (رض) پر گواہ اور عمر (رض) پر قسم آتی تھی لیکن حضرت زید بن ثابت (رض) نے ابی (رض) کو فرمایا : امیر المومنین کو قسم اٹھانے سے تم معاف رکھو۔ اور ان کے علاوہ میں کسی اور کے لیے بھی ایسا مطالبہ کبھی نہ کرتا۔ مگر حضرت عمر (رض) نے از خود قسم اٹھالی اور پھر قسم کھائی کہ جب تک عمر زندہ ہے زید کبھی عہدہ قضاء پر فائز نہیں ہوسکتا کیونکہ عمر کے نزدیک تمام مسلمانوں کی عزت وآبرو برابر ہے۔
السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی، ابن عساکر