14473- عن حكيم بن حزام قال: خرجت إلى اليمن فابتعت حلة ذي يزن فأهديتها إلى النبي صلى الله عليه وسلم في المدة التي كانت بينه وبين قريش فقال: لا أقبل هدية مشرك فردها فبعتها فاشتراها فلبسها، ثم خرج إلى أصحابه وهي عليه، فما رأيت شيئا في شيء أحسن منه فيها صلى الله عليه وسلم فما مكثت أن قلت:
ما ينظر الحكام بالفصل بعد ما ... بدا واضح ذو غرةوحجول فسمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت إلي يتبسم ثم دخل وكساها أسامة بن زيد."..
14473 حکیم بن حزام (رض) سے مروی ہے کہ میں یمن گیا تو میں نے وہاں ذی یزن کا حلہ خریدا۔ پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ حلہ ہدیہ کردیا۔ وہ زمانہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین کے معاہدہ (بائیکاٹ) کا تھا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔ اور وہ حلہ واپس کردیا۔ پھر میں نے وہ حلہ فروخت کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خرید کر پہن لیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے پاس اس حلہ کو پہن کر تشریف لے گئے۔ میں نے کسی اور لباس میں آپ کو اس قدر حسین نہیں دیکھا تھا چنانچہ میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا :
ماینصر الحکام بالفصل بعدمابداواضح ذوغرۃ وحجول
اذاقایسوہ المجد اربی علیھم کمستفرغ ماء الذناب سبجیل
حکام فیصلہ کن حق بات نہیں کہتے جبکہ روشن چمکدار چہرہ والا شخص ظاہر ہوگیا ہے۔
جب لوگ بزرگی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں تو وہ سب پر فائق ہوتا ہے گویا لوگ اس کے سامنے خالی ڈول ہیں۔
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے یہ اشعار سن لیے چنانچہ آپ میری طرف مسکراتے ہوئے ملتفت ہوئے پھر گھر گئے اور وہ حلہ اسامۃ بن زید کو پہنا دیا۔ الامام احمد فی مسندہ