hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1448

.

كنز العمال

1448
Kanz al-Ummal
1448 - (ومن مسند أبي ثعلبة الخشني) عن أبي ثعلبة الخشني قال "قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة له فدخل المسجد فصلى فيه ركعتين وكان يعجبه إذا قدم من سفر أن يدخل المسجد فيصلي فيه ركعتين ويثني بفاطمة ثم يأتي أزواجه فقدم من سفره مرة فأتى فاطمة فبدأ بها قبل بيوت أزواجه فاستقبلته على باب البيت فاطمة فجعلت تقبل وجهه وفي لفظ فاه وعينيه وتبكي فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يبكيك قالت أراك يا رسول الله قد شحب لونك واخلولقت ثيابك فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم يا فاطمة لا تبكي فإن الله بعث أباك على أمر لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر ولا شعر إلا أدخله الله به عزا أو ذلا حتى يبلغ حيث يبلغ الليل". (طب حل ك) .
١٤٤٨۔۔ از مسند ابی ثعلبہ الخشنی ، ابی ثعلبہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کردوگانہ ادا کی۔ اور آپ کو یہ بات محبوب تھی کہ جب بھی سفر سے واپس تشریف لاتے تومسجد جاکر دو رکعت نماز ادا فرماتے ہیں، پھر حضرت فاطمہ کے ہاں تشریف لے جاتے پھر ازواج مطہرات کے ہاں جاتے تو اسی طرح ایک مرتبہ سفر سے واپسی کے بعد حضرت فاطمہ کے ہاں ازواج مطہرات سے قبل تشریف لے گئے۔ پہنچے تو دروازے پر ہی حضرت فاطمہ سے سامنا ہوگیا۔ حضرت فاطمہ آپ کے چہرہ انور کو بوسہ دینے لگیں اور دوسرے الفاظ میں آپ کے دہان منہ مبارک اور آنکھوں کو بوسہ دینے لگیں، اور ساتھ میں رونے لگیں اور آپ کے کپڑے بھی بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ آپ نے فرمایا اے فاطمہ مت رو، بلاشک اللہ نے تیرے والد کو ایسے امر پر مبعوث فرمایا ہے کہ روئے زمین پر کوئی ایساگھر باقی نہ رہے گا، کچانہ پکا، مگر اللہ اس میں اسلام کو ضرور داخل فرمائیں گے معزز کی عزت کے ساتھ اور ذلیل کی ذلت کے ساتھ حتی کہ یہ اسلام وہاں تک جاپہنچے گا جہاں تک کہ رات اپنے تاریکی کے پردے ڈالتی ہے۔ الکبیر للطبرانی، الحلیہ، المستدرک للحاکم۔