14499- عن جابر بن الحارث قال: بعث إلي مولاي بعبد أخذه بالسواد اجتعلفيه فأبق العبد فاختصما إلى شريح فضمننيه فأتينا عليا فقصصنا عليه القصة، فقال: كذب شريح وأساء القضاء يحلف العبد الأسود للعبد الأحمر لأبق إباقا وليس عليه شيء. "عب ق".
14499 جابر بن الحارث سے مروی ہے کہ مجھے میرے آزادکردہ غلام نے میرے پاس ایک بھگوڑا غلام ارض سواد۔ سوڈان سے پکڑ کر بھیجا جو اس نے انعام یابی کے لیے پکڑا تھا۔ لیکن وہ غلام پھر بھاگ گیا۔ چنانچہ دونوں قاضی شریح کے پاس حاضر ہوئے۔ قاضی شریح نے مجھے ضامن قرار دیدیا۔ پھر ہم حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور ان کو سارا قصہ سنایا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : شریح نے غلط کہا ہے اور برا فیصلہ کیا۔ سیاہ فام غلام سرخ فام (بھگوڑے) غلام کے لیے قسم اٹھائے گا کہ وہ واقعی بھاگ گیا ہے اور اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی