hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14503

.

كنز العمال

14503
Kanz al-Ummal
14503- عن عبد الأعلى الثعلبي قال: كنت جالسا عند شريح فجاءت امرأة فقالت: يا أبا أمية إن هذا الرجل أتاني ولا يرجو أن يتزوجني فقلت له: هل لك أن تتزوجني؟ فقال: أتسخرين بي فزوجته نفسي وأعطيته من الذي لي أربعة آلاف درهم اتجر به في مالي حتى غمر ماله في مالي كالرقةفي جنب البعير، فزعم أنه مطلقي ومتزوج علي، فقال شريح للرجل: ما تقول؟ قال: صدقت، فقال شريح للملأ حوله: فزعموا أن عليا أتاه بمثل الذي أتاك، فقال: أنت أحق بالطلاق والنكاح ما بينك وبين أربع نسوة، فإن أنت طلقت فالطلاق بيدك واردد عليها مالها ومثله من مالك بما استحللت من فرجها، فقال شريح هذا الذي بلغنا عنه هو قضائي بينكما قوما. "ص".
14503 عبدالاعلیٰ ثعلبی سے مروی ہے کہ میں قاضی شریح کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک عورت (ایک آدمی کے ساتھ) ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی : اے ابوامیہ (قاضی شریچ ! ) یہ آدمی میرے پاس آیا اس کا ارادہ مجھ سے نکاح کرنے کا نہیں تھا۔ میں نے اس کو اپنے ساتھ شادی کرنے کو کہا۔ تو اس نے کہا کیا تو میرے ساتھ مسخرہ پن کرتی ہے۔ چنانچہ نے اس کے ساتھ اپنی شادی کرالی۔ اور اپنے مال میں سے چار ہزار درہم میں نے اس کو دیئے میں اس کے ساتھ اپنے مال میں تجارت کرنا چاہتی تھی ، حتیٰ کہ اس کا مال میرے مال سے بہت زیادہ بڑھ گیا گویا کہ اونٹ کے پہلو میں کچھ بال۔
اب اس کا خیال ہے کہ یہ مجھے طلاق دے کر دوسری عورت کو بسائے گا۔ قاضی شریح نے اس آدمی کو فرمایا : تیر کیا خیال ہے یہ کیا کہتی ہے ؟ آدمی نے کہا : یہ سچ کہتی ہے۔ قاضی شریح کے پاس موجود لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا ہی ایک مقدمہ حضرت علی (رض) کے پاس بھی آیا تھا تو حضرت علی (رض) نے آدمی کو فرمایا تھا :
تو طلاق دینے کا حق رکھتا ہے اور چار عورتوں سے نکاح کرنے کا بھی حقدار ہے۔ اگر تو اس کو طلاق دیتا ہے تو تو طلاق کا مالک ہے لیکن اس کا مال اس کو لوٹا دے اور اتنا ہی مزید مال اپنی طرف سے مہر کے نام سے اس کو دے جس کے عوض تو نے اس کی شرم گاہ کو حلال کیا۔ قاضی شریح (رح) نے فرمایا : یہ فیصلہ جو ہم کو حضرت علی (رض) کی طرف سے پہنچا میرا بھی تم دونوں کے لیے یہی فیصلہ ہے ، لہٰذا اٹھ جاؤ۔
السنن لسعید بن منصور