14506- عن ابن جريج عن عبد الله بن أبي بكر أن رجلا من الأنصار يقال له: حبان بن منقذ طلق امرأته وهو صحيح وهي ترضع ابنته فمكثت سبعة عشر شهرا لا تحيض يمنعها الرضاع ثم مرض بعد أن طلقها سبعة أشهر أو ثمانية أشهر فقيل له: إن امرأتك تريد أن ترث فقال لأهله: احملوني إلى عثمان فحملوه إليه فذكر له شأن امرأته وعنده علي بن أبي طالب وزيد بن ثابت فقال لهما عثمان: ما تريان؟ فقالا: إنا نرى أنها ترثه إن مات ويرثها إن ماتت فإنها ليست من القواعد اللاتي يئسن من المحيض وليست من الأبكار اللاتي لم يبلغن المحيض، ثم هي على عدة حيضها ما كان من قليل أو كثير، فرجع حبان إلى أهله فأخذ ابنته، فلما قعدت على الرضاع حاضت حيضة، ثم حاضت حيضة أخرى ثم توفي حبان قبل أن تحيض الحيضة الثلاثة فاعتدت عدة المتوفى عنها زوجها وورثته. "الشافعي هق"
14506 ابن جریج، عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی جن کو حبان بن معقذ کہا جاتا ہے نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی۔ حبان اس وقت تندرست اور صحیح سالم تھے۔ جبکہ ان کی طلقہ بیوی دودھ والی تھی۔ وہ سترہ یا اٹھارہ ماہ تک یونہی پاک رہی اور اس کو حیض نہ آیا، رضاعت نے اس کو حیض نہ آنے دیا۔ جبکہ حبان اس کو طلاق دینے کے ساتھ یا آٹھ ماہ بعد مرض الموت میں پڑگئے۔ ان کو کسی نے کہا : تاحال تمہاری بیوی تمہاری وارث بننا چاہتی ہے۔ کیونکہ تین حیض نہ آنے کے سبب ابھی وہ تم سے بالکلیہ فارغ نہ ہوئی ہے حبان نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا : مجھے خلیفہ عثمان کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ان کی خدمت میں پہنچ کر حبان نے اپنی مطلقہ بیوی کی حالت کا ذکر کیا۔ حضرت عثمان (رض) کے پاس علی بن ابی طالب اور زید بن ثابت (رض) بھی موجود تھے۔ حضرت عثمان (رض) نے ان سے دریافت فرمایا : تم دونوں کا کیا خیال ہے ؟ دونوں نے فرمایا : ہمارا خیال ہے کہ اگر حبان مرگئے تو وہ ان کی وارث ہوگی اور اگر وہ مرگئی تو حبان اس کے وارث ہوں گے۔ کیونکہ وہ ان بیٹھی رہ جانے والی بوڑھیوں میں سے نہیں ہے جو حیض سے مایوس ہوجاتی ہیں اور نہ ان کنواریوں میں سے ہے جو زمانہ حیض کو نہیں پہنچی ہیں۔ لہٰذا ان کی عدت تین ماہ نہیں بلکہ تین حیض ہے اور وہ ابھی اپنی عدت حیض پر باقی ہے ، خواہ زیادہ ہو یا تھوڑی۔
چنانچہ حبان اپنے اہل خانہ کے پاس واپس ہوئے اور اپنی بیٹی کو لے لیا اور جب اس کی ماں دودھ پلانے بیٹھی تو اس کو ایک حیض آگیا ۔ پھر (اگلے ماء) دوسرا حیض آگیا پھر تیسرا حیض آنے سے قبل حبان کو موت آگئی چنانچہ اس نے متوفی عنہا کی عدت گزاری۔ یعنی حبان کی وفات کے بعد چار ماہ دس دن تک وہ وعدت میں رہی اور حبان کی وراثت بھی پائی۔ الشافعی، السنن للبیہقی