hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14510

.

كنز العمال

14510
Kanz al-Ummal
14510- عن الأعور السلمي أن رجلا جاء إلى علي بن أبي طالب فقال: يا أمير المؤمنين إني قد رقدت فاحتلمت على أم فلان والرجل قاعد فغضب ثم وثب إليه فتعلق به وقال: يا أمير المؤمنين خذ لي بحقي منه، فتبسم علي ثم قال: ما أجد على النائم حكما إلا أن أقيمه في الشمس وأحدفيئه افترقا وحكما الله، فالحكم فيه أن تضرب فيئه. "أبو طالب المذكور عب".
14510 اعورسلمی سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا امیر المومنین ! میں سویا تو مجھے ام فلاں کے ساتھ خواب میں احتلام ہوگیا۔ جبکہ (اس عورت کا ) آدمی قریب بیٹھا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ غضب ناک ہوگیا اور اچھل کر اس خواب والے کے ساتھ چمٹ گیا اور بولا یا امیر المومنین ! میرا اس سے حق لو۔ حضرت علی (رض) مسکرائے اور ارشاد فرمایا : میں ٹائم (سونے والے) پر اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں پاتا کہ اس کو دھوپ میں کھڑا کرکے اس کے سائے پر حد (زنا) جاری کروں۔ لہٰذا تم دونوں باہم نہ جھگڑا کرو اور الگ ہوجاؤ اور اللہ کا اس میں حکم صرف یہی ہے کہ تو اس کے سائے کو مارلے۔ ابوطالب المذکور، المصنف لعبد الرزاق