14519- عن سعيد بن المسيب قال: أبقت أمة لبعض العرب فوقعت بوادي القرى فتزوجها رجل من بني عذرة فنثرت له بطنها ثم عثر عليها سيدها فاستاقها وولدها فقضى عمر للعذري بولده وقضى عليه بالغرةلكل وصيف وصيف ولكل وصيفة وصيفة وجعل ثمن الغرة إذا لم توجد على أهل القرى ستين دينارا أو سبع مائة درهم وعلى أهل البادية ست قلائص"قط".
14519 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے : کسی عرب کی ایک باندی (قافلے سے) پیچھے رہ گئی اور وہ شہر میں آگئی۔ بنی عذرہ کے ایک آدمی نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔ باندی نے اس کا لڑکا بھی جن دیا۔ پھر باندی کا مالک باندی تک پہنچ گیا۔ اس نے باندی اور اس کا لڑکا اپنے ساتھ کرلیا۔ حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکا عذری کا ہے عذری کے ذمہ ایک غلام یا باندی ہے۔ جو وہ باندی کے مالک کو دے گا۔ لڑکے کے بدلے لڑکا اور لڑکی کے بدلے لڑکی۔ اگر نہ ملے تو شہر والوں کے لیے ساٹھ دینار یا سات سود رہم اور اہل گاؤں پر چھ جوان اونٹنیاں۔ الدارقطنی فی السنن۔