14533- عن عبد الله بن أبي حدرد الأسلمي أنه كان ليهودي عليه أربعة دراهم فاستعدىعليه فقال: يا محمد إن لي على هذا أربعة دراهم، وقد غلبني عليها؟ قال: أعطه حقه، قال: والذي بعثك بالحق ما أقدر عليها، قال: أعطه حقه قال: والذي نفسي بيده ما أقدر عليها قد أخبرته أنك تبعثنا إلى خيبر فأرجو إن تغنمنا شيئا فأرجع فأقضيه قال: أعطه حقه وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قال ثلاثا لم يراجع فخرج ابن أبي حدرد إلى السوق وعلى رأسه عصابة وهو متزر ببردة فنزع العمامة عن رأسه فاتزر بها ونزع البردة فقال: اشتر مني هذه البردة فباعها منه بأربعة دراهم فمرت عجوز فقالت: مالك يا صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرها فقالت ها دونك هذا البرد عليها طرحته عليه. "كر".
14533 عبداللہ بن ابی حدرداسلمی سے مروی ہے کہ ایک یہودی کے ان پر چار درہم قرض تھے۔ اس نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی شکایت کی اور عرض کیا : اے محمد ! میرے اس پر چار درہم ہیں۔ اور یہ عدم ادائیگی میں مجھ پر غالب آگئے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کا حق ادا کردو ۔ عبداللہ بن ابی حدرد نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ارشاد فرمایا : اس کا حق ادا کردو۔ میں نے پھر عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ میں نے اس کو کہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خیبر کے جہاد کے لیے بھیجنے والے ہیں۔ تو مجھے امید ہے کہ ہم مال غنیمت لے کر لوٹیں گے پھر میں آکر اس کا قرض چکادوں گا۔ لیکن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری بار بھی ارشاد فرمایا : اس کا حق ادا کردو۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تین بار ارشاد فرما دیتے تو پھر دوبارہ نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی حرد اس فکر میں بازار کو نکلے، سر پر عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ جبکہ ایک یمنی چادر بطور لنگی تہہ بند باندھی ہوئی تھی۔ آپ (رض) نے سر سے عمامہ کھول کر اس کی ازار باندھ لی اور یمنی چادر نکال کر اس یہودی کو بولے لے میری یہ چادر چار درہم میں خرید لے۔ چنانچہ انھوں نے وہ چادر اس کو فروخت کردی۔ ایک بڑھیا آپ (رض) کے پاس گزری اور پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی تجھے کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے اس کو سارے واقعے کی خبر سنائی تو بڑھیا جس نے وہی چادر کندھے پر ڈال رکھی تھی اتار کر عبداللہ کی طرف اچھال دی اور بولی یہ لے تیری چادر۔ ابن عساکر