hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14551

.

كنز العمال

14551
Kanz al-Ummal
14551- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عاصم بن عمرو البجلي عن رجل أن نفرا من أهل الكوفة أتوا عمر بن الخطاب فقالوا: جئناك نسألك عن ثلاث خصال عن صلاة الرجل في بيته تطوعا، وعما يحل للرجل من امرأته إذا كانت حائضا، وعن الغسل من الجنابة؟ قال: لقد سألتموني عن خصال ما سألني عنهن أحد منذ سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أما صلاة الرجل في بيته تطوعا فهو نور فنوروا بيوتكم، وأما ما يحل للرجل من امرأته حائضا فلك ما فوق الإزار من الضم والتقبيل، ولا تطلع على ما تحته، وأما الغسل من الجنابة فتفرغ بيمينك على شمالك ثم تدخل يدك في الإناء فتغسل فرجك وما أصابك، ثم تتوضأ وضوءك للصلاة، ثم تفرغ على رأسك ثلاث مرات تدلك رأسك كل شيء مرة، ثم أفض الماء على جسدك، ثم تنح عن مغتسلك فاغسل رجليك. "عب ص ش حم والعدني ومحمد بن نصر في كتاب الصلاة ع والطحاوي طس كر ص".
14551 (مسند عمر (رض)) عاصم بن عمرو بجلی سے مروی ہے وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ کوفہ کے کچھ لوگ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہم آپ کے پاس تین باتوں کا سوال کرنے آئے ہیں، آدمی اپنے گھر میں نفل پڑھے اس کا کیا حکم ہے ؟ عورت جب حائضہ ہو تو آدمی کے لیے اس کے ساتھ غلط ملط ہونے کا کیا حکم ہے ؟ جنابت کے غسل کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ سے جن باتوں کا سوال کیا ہے آج تک کسی نے مجھ سے سوال نہیں کیا جب سے میں نے ان کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا۔
بہرحال آدمی اگر اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرے تو یہ نور ہے لہٰذا اپنے گھروں کو خوب منور کرو۔ جبکہ عورت جب حائضہ ہو تو آدمی ازار کے اوپر سے بوس وکنار کرسکتا ہے لیکن اس کے نیچے ہرگز مطلع نہ ہو (تجاوز نہ کرے) اور غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ (جب غسل کا) پانی کسی برتن میں ہو تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال (اور دھو) پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال اور اپنی شرم گاہ اور ناپاکی کو دھو۔ پھر نماز جیسا وضو کر، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈال اور ہر بار اپنے سر کو مل، پھر اپنے جسم پر پانی ڈال پھر غسل کی جگہ۔ جہاں پانی اکٹھا ہوچکا ہو سے ایک طرف ہٹ جا اور پھر اپنے پاؤں دھو ڈال۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن لسعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، العدنی، محمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ، مسند ابی یعلی، الطحاوی، الطبرانی فی الاوسط، ابن عساکر