14554- عن عاصم بن عمرو البجلي عن أحد النفر الذين أتوا عمر بن الخطاب فقالوا: يا أمير المؤمنين جئنا نسألك عن ثلاث خصال: ما يحل للرجل من امرأته وهي حائض، وعن الغسل من الجنابة وعن قراءة القرآن في البيوت؟ قال: سبحان الله أسحرة أنتم؟ لقد سألتموني عن شيء سألت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ما سألني عنه أحد بعد فقال: أما ما يحل للرجل من امرأته وهي حائض فما فوق الإزار، وأما الغسل من الجنابة فيغسل يده وفرجه ثم يتوضأ ثم يفيض على رأسه وجسده الماء وأما قراءة القرآن فنور من شاء نور بيته. "ط"
14554 حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک وفد آیا جس میں عاصم بن عمرو بجلی بھی تھے وہ فرماتے ہیں کہ وفدنے آپ (رض) کی خدمت میں عرض کیا : یا امیر المومنین ! ہم آپ کے پاس تین خصلتوں کے بارے میں سوال کرنے آئے ہیں عورت جب حائضہ ہو آدمی کے لئے۔ اس کی قربت کس حد تک حلال ہے ؟ جنابت سے غسل کا کیا طریقہ ہے اور گھروں میں قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ ! کیا تم جادو گر ہو ، تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جس کے متعلق میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا لیکن آج تک اس کے بعداس کے متعلق کسی نے مجھ سے سوال نہیں کیا۔ پھر ارشاد فرمایا :
بہرحال عورت جب حائضہ ہو تو مرد کے لیے عورت کی ازار (شلوار) کے اوپر سے اس سے لطف حاصل کرنا حلال ہے۔ جبکہ غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے، پھر شرم گاہ ، پھروضو کرے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی بہائے۔ اور قرآن کا پڑھنا (سراسر) نور ہے جو چاہے اپنے گھر کو اس کے ساتھ منور کرلے۔ الدارقطنی فی السنن