hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14571

.

كنز العمال

14571
Kanz al-Ummal
14571- وعنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم في كم تقطع اليد؟ قال: لا تقطع في ثمر معلق، فإذا ضمه الجرينقطعت في ثمن المجن ولا تقطع في حريسةالجبل، فإذا آواها المراح قطعت في ثمن المجن، وسئل عن ضوال الغنم؟ قال: لك أو لأخيك أو تذهب خذها، وسئل عن ضوال الإبل؟ فقال: معها الحذاء والسقاء دعها حتى يجدها ربها، وسئل عن اللقطة؟ فقال: ما كان من طريق مأتي أو في قرية عامرة فعرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فلك وما لم يكن في طريق مأتي ولا في قرية عامرة ففيه وفي الركاز الخمس. "ن كر".
14571 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کتنی چوری میں قطع ید ہوگی ؟ (کتنے مال کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری ہوگی) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (سائل کے حال کو دیکھتے ہوئے ) ارشاد فرمایا : درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے (کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں) ہاں جب پھل جرین (جہاں پھل اکٹھے ہوتے ہیں) میں جمع کرلیے جائیں تو ڈھال کی قیمت (کے برابر پھلوں کی چوری) میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور راہ چلتی بکری کو اٹھانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب وہ باڑے میں پہنچ جائے تو ڈھال کی قیمت کے برابر میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حضرت ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ بکری کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ تجھے یا تیرے کسی بھائی کے ہاتھ لگ جائے گی۔ اگر کوئی بکری نکل جائے تو تو اس کو پکڑ لے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اونٹ کے ساتھ اس کے پاؤں اور اس کا مشکیزہ ہے اس کو یونہی پھرنے دے اس کا مالک اس کو پکڑ لے گا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لقطہ (پڑی ہوئی چیز) کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پڑی ہوئی چیز کسی آتی جاتی راہ یا آباد بستی میں ملے تو اس کو ایک سال تک تشہیر کرا۔ اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ورنہ وہ تیری ہے۔ اور اگر وہ چلتی راہ میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی آباد بستی میں تو اس میں اور رکاز (زمین میں گاڑے ہوئے خزانہ) میں خمس ہے (یعنی اس کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال کر باقی پانے والے کا ہے) ۔ النسائی ، ابن عساکر