14581- "السلطان ظل الله في الأرض يأوي إليه كل مظلوم من عباده فإن عدل كان له الأجر وكان على الرعية الشكر، وإن جار أوخان أو ظلم، كان عليه الوزر وعلى الرعية الصبر، وإذا جارت الولاة قحطت السماء، وإذا منعت الزكاة هلكت المواشي، وإذا ظهر الزنا ظهر الفقر والمسكنة وإذا أخفرتالذمة أديل". "الحكيم والبزار هب عن ابن عمر".
14581 سلطان (بادشاہ) زمین پر اللہ کا سایہ ہے، اللہ کے بندوں میں سے ہر مظلوم اس کے پاس جاتا ہے ، اگر وہ عدل سے کام لیتا ہے تو اس کو اجر ملتا ہے اور پھر رعایا پر اس کا شکر (اور اس کی قدر) لازم ہے۔ اور اگر وہ ظلم کرتا ہے، یا خیانت کرتا ہے تو اس پر اس کا وبال ہوتا ہے اور ایسے وقت رعایا پر صبر لازم ہے جب وقت کے حکام و سلاطین ظلم کرنا شروع کرتے ہیں تو آسمان قحط میں مبتلا ہوتا ہے جب لوگ زکوۃ روک لیتے ہیں تو مویشی ہلاک ہوجاتے ہیں، جب زنا عام ہوجاتا ہے تو فقروفاقہ اور مسکنت عام ہوجاتی ہے اور جب وعدہ اور ذمہ توڑا جاتا ہے تو کفار کا دبدبہ بڑھ جاتا ہے۔ الحکیم والبزار، شعب الایمان للبیہقی عن ابن عمر (رض)